جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
میت کو دفنانے کے بعد کچھ دیر تک قبرستان میں ٹھرنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ میت کو دفنانے کے بعد اتنی دیرتک ٹھہرنا چاہیے جتنی دیرمیں ایک اونٹ کو ذبح کیا جاتا ہے؟۔
واضح رہےکہ یہ بات درست ہےاور صحيح احاديث سے ثابت ہے کہ میت کو دفنانے کے بعد اتنی دیرتک قبرستان میں ٹھہراجائے جتنی دیر میں ایک اونٹ کو ذبح کرکے اس کا گوشت تقسیم کیا جاسکے۔البتہ یہ دورانیہ عربوں کے عرف میں زیادہ نہیں تھا کیونکہ وہ اونٹ ذبح کرنے کے ماہر تھے۔لہذا سورۃ بقرۃ کی ابتدئی اور آخری آیتیں ،سورۃ یاسین پڑھنے اور دعا کرنے تک ٹھرنے سے یہ حکم پورا ہوجائے گا۔
لمافی"صحیح المسلم":
روی الإمام المسلم رحمه الله عن ابن شماسة المهري، قال: حضرنا عمرو بن العاص وهو في سياقة الموت ،فبكى طويلا وحول وجهه إلى الجدار، فجعل ابنه يقول: يا ابتاه فإذا دفنتموني، فشنوا علي التراب شنا، ثم أقيموا حول قبري قدر ما تنحر جزور، ويقسم لحمها حتى استأنس بكم، وأنظر ماذا أراجع به رسل ربي.(صحيح مسلم ،321)
وفی"الدرالمختار":
ويستحب حثيه من قبل رأسه ثلاثًا، و جلوس ساعةً بعد دفنه لدعاء و قراءة بقدر ما ينحر الجزور و يفرق لحمه.(الدر المختار: 235/236/2)