جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
ماہ ذی الحجہ میں بال کٹوانا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ ذی الحجہ کے مہینے میں بال کٹوا سکتے ہیں؟۔
واضح رہے کہ حدیث مبارک کی رو سے ذی الحجہ کا چاند نظر آجانے کے بعد سے لےکرقربانی کرنے تک بال ناخن وغیرہ نہ کاٹنا ان افراد کے لئے مستحب ہے، جو قربانی کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں، یہ حکم فرض یا واجب نہیں، پس اگر کسی نے اس دنوں میں بال یا ناخن کاٹ لئے تو اس سے قربانی پر اثر نہیں ہوگا۔ نیز وہ افراد جنہیں اپنے غیر ضروری بال یا ناخن کاٹے چالیس دن کی مدت ہو گئی ہو یا ان دنوں میں ہو رہی ہو تو ان کے لئے مذکورہ حکم نہیں ہے، لہٰذا انہیں ان دنوں میں بال، ناخن کاٹنے چاہییں۔
مذکورہ حکم اصل میں تو قربانی کا ارادہ رکھنے والے افراد کے لئے ہے، لیکن وہ افراد جو قربانی کی استطاعت نہیں رکھتے، وہ بھی ان دنوں میں اپنے بال یا ناخن نہیں کاٹتے تو ان شاء اللہ ثواب کے مستحق ہوں گے۔
واضح رہے کہ یہ حکم ذی الحجہ کے پورے مہینے کے لئے نہیں ہے، بلکہ ذی الحجہ کا چاند نظر آنے سے قربانی کرنے تک ہے۔
لمافی"جامع ترمذی":
عن أم سلمة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من رأى هلال ذي الحجة و أراد أن يضحي فلا يأخذن من شعره و أظفاره''. (١/ ٢٧٨، ط: سعيد)
وفی"مرقاۃ المفاتیح":
عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلي الله عليه وسلم: أمرت بيوم الاضحي عيداً جعله الله لهذه الأمة، قال له رجل: يا رسول الله! أرأيت ان لم أجد إلا منيحة أنثى أفأضحي بها؟ قال: لا! ولكن خذ من شعرك و أظفارك و تقص شاربك و تحلق عانتك، فذلك تمام أضحيتك عند الله. رواه أبو داؤد و النسائي''. (كتاب الأضحية، ٣/ ٣١٦، ط: امدادية)