جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
اولیاء اللہ کی قبروں کو ثواب سمجھ کر چھونا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ کچھ حضرات کلیر شریف گئے اور ان جانے والوں میں امام اور مدرسین ہیں جب یہ حضرات وہاں پہونچے تو سب نے صابر کلیری کے قدموں کو چھو کر اپنے سینوں سے لگایا اور کہتے ہیں کہ ایسا کرنا ثواب ہے اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اس سے روح کو تقویت پہونچتی ہے، کیا ایسا کرنا شرک ہے؟ یا
بدعت یا ثواب ہے؟ اور ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟۔
اولیاء اللہ کی قبروں کو ثواب سمجھ کر چھونا حرام موجب شرک اور یہود و نصاری کا طریقہ ہے،ان مزارات سے کسی کی کوئی مراد پوری نہیں ہوتی اور جنھوں
نے ایسی حرکتیں کر رکھی ہیں ان پر توبہ کرنا لازم ہے۔
لمافی"القرآن الکریم":
مَثَلُ الَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ أَوْلِيَاءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوتِ. (عنکبوت آیت: ٤١)
وفی"الطحطاوی":
ولا يمسح القبر ولا يقبله ولا يمسه فإن ذلك من عادة النصارى.
( طحطاوی ، كتاب الصلوة ، باب احكام الجنائز ، فصل في زيارة القبور ، دار الكتاب
دیوبند / ٦٢١ ، قديم ٣٤١)
وفی"البینایہ":
قال الفقهاء الخراسانيون لا يمسح القبر ، ولا يقبله ، ولا يمسه ، فإن
كل ذلك من عادة النصارى ، قال وما ذكر وه صحيح. (البنايه، كتاب
الجنائز، باب الدفن ليلا، اشرفيه ديوبند (٢٦١/٣)