جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
عید گاہ میں قوالی کرنا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ کیا عید گاہ میں قوالی ( محفل سماع مع مزامیر کے) جائز ہے اور کسی روایت سے ثابت ہے؟۔
واضح رہے کہ قوالی محفل سماع مع مزامیر عید گاہ جیسی مقدس جگہ پر ہرگز جائز نہیں ہے،جبکہ عام جگہ میں بھی شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی نیز اس کی شریعت میں کوئی اصل موجود نہیں ہے۔
لمافی"الفتاوی القاسمیھ":
لا اصل له في الدين زاد فى الجواهر وما يفعله متصوفة زماننا حرام لا
(فتاوی قاسميه ٣/ 6بقية كتاب البدعات و الرسوم)
وفی"مجمع الأنهر":
يجوز القصد والجلوس اليه ومن قبلهم لم يفعله كذلك. (ملتقى الابحر على
(هامش مجمع الانهر، كتاب الكراهية مصرى قديم ٢ / ٥٥١ ، دار الكتب العلمية بيروت ٢٢٠/٤)
وفی"مسند احمد":
روى الامام احمد قال صلى الله عليه وسلم: إن الله بعثني بمحق المعارف والمزامیر
(مسند احمد ٢٥٧/٥، رقم: ٢٢٥٧١، ٢٦٨/٥، رقم :
وفی"الشامیھ":
و ما صححه تاج الشريعة أن مصلى العيد له حكم المساجد.
(كتاب الصلوة ، باب ما يفسد الصلوة ، ومالا يفسد، مطلب: في أحكام المسجد ، زكريا
٤٣٠/٢، کراچی ٦٥٧/١)