جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
جنبیہ عورت کا بچے کو غسل کیے بغیر دودھ پلانے کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ جنوبیہ عورت اپنے بچے کو بغیر غسل کے دودھ پلا سکتی ہے،یا نہیں؟ اگر بغیر غسل کے پلا دے تو اس پر کفارہ لازم ہوتا ہے یا نہیں یا پھر وہ بغیر غسل لیکن مع الوضوپلا سکتی ہے یا نہیں؟۔
واضح رہے کہ عورت کے لئے ایسی حالت میں بھی بچہ کو دودھ پلانا بلاشبہ جائز اور درست ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ طہارت کا خیال رکھے۔
لمافی"سنن الترمذي":
عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم لقيه وهو جنب قال [ فانبجست] أي فانخنست فاغتسلت ثم جئت فقال أين كنت أو أين ذهبت قلت إني كنت جنبا قال إن المسلم لا ينجس قال أبو عيسى و حديث أبي هريرة [ أنه لقي النبي صلى الله عليه و سلم وهو جنب ] حديث حسن صحيح وقد رخص غير واحد من أهل العلم في مصافحة الجنب ولم يروا بعرق الجنب والحائض بأسا اھ(1/ 207)۔
وفي"سنن أبى داود":
عن عائشة قالت كنت أتعرق العظم وأنا حائض فأعطيه النبى -صلى الله عليه وسلم- فيضع فمه فى الموضع الذى فيه وضعته وأشرب الشراب فأناوله فيضع فمه فى الموضع الذى كنت أشرب منه اھ 1/ 107