جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
عورت کا اپنے سر کے بال کاٹنے اور کٹوانے کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ کیاعورت اپنے سر کے بال کاٹ سکتی ہے یا نہیں؟ اگر کاٹ سکتی ہے تو پھر کس حد تک کاٹ سکتی ہے، ایک عورت ہے جس کے بال انتہائی لمبے ہو چکے ہیں کیا اب وہ اپنے بال کٹا سکتی ہے؟۔
واضح رہے کہ صورتِ مسئولہ میں اگر عورت کو شرعی، طبی یا طبعی ضرورت ہو تو ضرورت کی حد تک بال کاٹنا جائز ہے، شرعی ضرورت جیساکہ حج و عمرہ کے موقع پر بال کا کاٹنا اور طبی ضرورت جیسے سر میں زخم ہے تو بال کاٹنا اور طبعی ضرورت جیسا کہ بال اتنے لمبے ہو چکے ہوں کہ سرین سے بھی نیچے چلے گئے ہوں اور بد نما معلوم ہورہے ہوں تو عام حالات کے مطابق بال باقی رکھ کر زائد بال کاٹ سکتی ہے، مذکرہ صورتوں کے علاوہ فیشن کے طور پرعورت کے لئے بال کاٹنا شرعاً جائز نہیں ہے اور حدیث شریف میں ہے کہ :''اللہ تعالی کی لعنت ہے ان مردوں پر جو عورتوں کی مشابہت اختیارکرتے ہیں اور ان عورتوں پر جومردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں-
لمافی"الشامیھ":
(قوله بأن يأخذ إلخ) قال في البحر: والمراد بالتقصير أن يأخذ الرجل والمرأة من رءوس شعر ربع الرأس مقدار الأنملة كذا ذكره الزيلعي، ومراده أن يأخذ من كل شعرة مقدار الأنملة".
(كتاب الحج، مطلب في رمي جمرة العقبة، 515/2-516، ط: سعيد)
وفی"الھندیھ":
"ولو حلقت المرأة رأسها فإن فعلت لوجع أصابها لا بأس به، و إن فعلت ذلك تشبهًا بالرجل فهو مكروه، كذا في الكبرى".
(كتاب الكراهية وهو مشتمل على ثلاثين بابا، الباب التاسع عشر في الختان والخصاء وحلق المرأة شعرها ووصلها شعر غيرها، 358/5، ط: رشيدية)
وفی"صحيح البخاری":
"عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم المتشبهين من الرجال بالنساء، والمتشبهات من النساء بالرجال".
(كتاب اللباس، باب المتشبهون بالنساء والمتشبهات بالرجال، 159/7، ط: السلطانية، بالمطبعة الكبرى الأميرية)