جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
حاملہ خاتون کے لئے روزہ توڑنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ حاملہ خاتون نے یہ سوچ کرکہ مغرب تک ڈیلیوری ہوجائے گی روزہ افطار کر لیا تو قضا لازم ہوگی یا کفارہ بھی ہوگا؟۔
واضح رہے کہ اگر حاملہ خاتون نے یہ سوچ کر روزہ ہی نہیں رکھا کہ مغرب تک ڈیلیوری ہوجائے گی تو صرف قضا لازم ہوگی، تاہم اگر مسلمان ماہر دین دار ڈاکٹرکے مشورے کے بغیر ایسا کیا تو گناہ ملے گا۔
لیکن اگر حاملہ خاتون نے روزہ رکھ لیا اور اسے پیدائش سے پہلے کی تکلیف شروع ہوگئی،جو اس کے لئے ناقابل برداشت تھی اور اس نے اس کی وجہ سے روزہ توڑ دیا یا روزہ رکھنے کے بعد پیدائش سے پہلے حمل کے ضائع ہونے کا خوف ہوا اور اس نے روزہ توڑ دیا تو کفارہ لازم نہیں، صرف قضا لازم ہے۔
لیکن اگر تکلیف نہیں ہوئی اور نہ ہی حمل کے ضائع ہونے کا خوف ہوا،روزہ رکھنے کے بعد محض یہ سوچ کر روزہ توڑ دیا کہ مغرب سے پہلے ڈلیوری ہوجائےگی تو اس پر قضا اور کفارہ دونوں لازم ہوں گے۔
لمافی"الدر المختار":
"قلت: وإذا أخذ بقول طبيب ليس فيه هذه الشروط وأفطر فالظاهر لزوم الكفارة كما لو أفطر بدون أمارة ولا تجربة لعدم غلبة الظن والناس عنه غافلون(422/2)
وفی"الھندیھ":
"الْحَامِلُ وَالْمُرْضِعُ إذَا خَافَتَا عَلَى أَنْفُسِهِمَا أَوْ، وَلَدِهِمَا أَفْطَرَتَا وَقَضَتَا، وَلَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِمَا كَذَا فِي الْخُلَاصَةِ.
(الھندیھ، کتاب الصوم ج١ ص ٢٠٧)