جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
غیر مسلم کا حق کھانا کیسا ہے
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ اگر کوئی شخص غیر مسلم کا حق کھائے یا اسے دھوکہ دے۔ کیا قیامت کے دن وہ بھی ہمارے نیک اعمال کا حق دار ہوگا؟ جس طرح ایک مسلمان اپنا حصہ لینے کا حق دار ہو؟-
واضح رہے کہ نیک اعمال صرف مسلمانوں کے قابل قبول ہیں، چونکہ اعمال کا دار و مدار ایمان پر ہے، مسلمان ہو تو نیک اعمال کار آمد اور مسلمان نہ ہو تو نیک اعمال قابل قبول نہیں، دنیا میں کافر کو نیکی کا بدلہ مل جاتا ہے، لیکن آخرت میں کوئی نیک عمل کافرکے نامہ اعمال میں ہے ہی نہیں۔ لہذا وہ ہمارے نیک اعمال تو نہیں لے سکتا لیکن یہ بات ضرور ہے،کہ کافر کے ساتھ دھوکہ اس کا مال چوری کرنا وغیرہ گناہ ہے، اگر کوئی مسلمان ایسا کرے گا تو گناہ ہوگا۔
لما فی أبی داؤد:
أن رجلًا مِن المسلمين تُوفِّيَ بخيبرٍ وإنه ذُكِرَ لرسولِ اللهِ صلى الله عليه وآله وسلم فقال صلُّوا على صاحبِكم، فتَغَيَّرَتْ وجوهُ القومِ لذلك! فلما رأى الذي بهم قال: إن صاحبَكم غلَّ في سبيلِ اللهِ، ففَتَّشْنا متاعَه فوجَدْنا فيه خرزًا مِن خَرَزِ اليهودِ ما يساوي درهمين.
أخرجه أبو داود (٢٧١٠)