جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
حالتِ جنابت میں فوت ہونے والے کے غسل کا حکم
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
اگر کوئی شخص حالتِ جنابت میں فوت ہو جائے تو کیا اس کو دومرتبہ غسل دیا جاۓ گا یا ایک مرتبہ؟-
واضح رہےحالت جنابت میں انتقال ہوجانے کی صورت میں بھی عام حالت کی طرح ایک مرتبہ ہی غسلِ مسنون دیا جائے گا،دو مرتبہ غسل دینے کی ضرورت نہیں ہے، البتہ جنبی میت کو مضمضہ (کلی) اور استنشاق (ناک میں پانی ڈالنا) بھی کرایا جائے گا۔
لمافی "فتاوی شامی":
(و يوضأ) من يؤمر بالصلاة (بلا مضمضة و استنشاق) للحرج، و قيل: يفعلان بخرقة،وعليه العمل اليوم،ولوكان جنباً أو حائضاً أو نفساء فعلا اتفاقًا تتميمًا للطهارة(2/ 195)