جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
دوران تلاوت اذان ہو جائے تو کیا کریں؟
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں!
کہ اگر کوئی شخص قرآن کریم کی تلاوت کر رہا ہو اور دوران تلاوت اذان شروع ہو جائے تو اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ تلاوت بند کر کے اذان کا جواب دینا افضل ہے یا تلاوت میں مشغول رہنا؟ـ
واضح رہے کہ تلاوت کے دوران اذان شروع ہونے کی صورت میں مناسب اور افضل یہی ہے کہ تلاوت بند کر کے اذان کا جواب دے؛ اس لئے کہ تلاوت بعد میں دوبارہ ہوسکتی ہے ، مگر اذان کے جواب کا موقع پھر بعد میں نہیں ملے گاـ
لمافی "بدائع الصنائع":
لو كان في القراءة ينبغي أن يقطع و يشتغل بالاستماع والإجابة.....(الخ•)
(كتاب الأذان، فصل بيان ما يجب على السامعين عند الأذان، 1/383،ط:عمریه)
وفی :"البحر الرائق"
ولو كان السامع يقرأ يقطع القراءة ويجيب.....(الخ•)(كتاب الصلوة، باب للاذان،1/451ط: رشیدیہ)
وفی "الفتاوى التارتا خانيه":
القاري إذا سمع النداء فالأفضل أن يمسك عن القراءة ، ويسمع
النداء، به ورد الأثر.....(الخ•) (كتاب الكراهية، الفصل الرابع، مسائل قرأة القرآن 18/50،ط : انوریه کتب خانه)