جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
اعضاءِ وضو میں سے کوئی جگہ خشک رہ جانے کی صورت میں وضو اور نماز کا حکم
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
ایک شخص نے نماز کے لئے وضو کیا اور اس سے ایک عضوہ خشک رہ گیا یا سر کا مسح بھول گیا تو کیا از سر نو وضو ضروری ھے یا صرف اُسی حصہ کو دھولے؟ـ
واضح رہے کہ وضو میں جن اعضاء کا دھونا فرض ہے، وضو کے دوران اُن اَعضاء میں سے کوئی بھی عضو یا کسی بھی عضو کا تھوڑا سا بھی حصہ(سوئی کے ناکہ کے برابر بھی) اگر کسی بھی وجہ سے خشک رہ جائے تو وضو نہیں ہوگا، اگر وضو کر لینے کے بعد (وضو توڑنے والی کوئی بات پیش آنے سے پہلے) پتہ چلا کہ اعضاءِ وضو میں سے کوئی جگہ خشک رہ گئی تھی تو دوبارہ مکمل وضو کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ جو بھی چیز مانع بنی ہو اس کو ہٹاکر صرف اسی خشک رہ جانے والی جگہ کو دھو لیں ؛ البتہ اس دوران جو نمازیں پڑھی گئی ہیں ، ان کا اعادہ کرنا لازم ہوگا۔
لمافی " الہندیہ":
في فتاوى ما وراء النهر إن بقي من موضع الوضوء قدر رأس إبرة أو لزق بأصل ظفره طين يابس أو رطب لم يجز وإن تلطخ يده بخمير أو حناء جاز.....(إلخ•)
(كتاب الطهارة، الباب الأول في الوضوء، الفصل الأول في فرائض الوضوء، 1/4، ط: رشيدية)
وفی "الدر المختار":
(ويجب) أي يفرض (غسل) كل ما يمكن من البدن بلا حرج مرة كأذن و (سرة وشارب وحاجب و) أثناء (لحية)... (ولا يمنع) الطهارة (ونيم) أي خرء ذباب وبرغوث لم يصل الماء تحته (وحناء) ولو جرمه به يفتى (ودرن ووسخ) عطف تفسير وكذا دهن ودسومة (وتراب) وطين ولو (في ظفر مطلقا)... (و) لا يمنع (ما على ظفر صباغ و) لا (طعام بين أسنانه) أو في سنه المجوف به يفتى. وقيل إن صلبا منع، وهو الأصح.....(إلخ•)
(كتاب الطهارة ،1/154،152 ط: سعید)