جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
بالغہ لڑکی کی نکاح اس کی رضامندی کی بغیر کرانے کا حکم
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
کہ اگر کوئی شخص اپنی بالغہ لڑکی کی نکاح کی اجازت کی بغیر کرے تو کیا یہ نکاح منعقد ھوجاتی ھے یا نہیں؟-
واضح رہے کہ اگر یہ بات درست ہے کہ نکاح کے وقت نہ لڑکی سے پوچھا گیا ، نہ لڑکی نے کسی کو نکاح کا وکیل بنایا ، نہ نکاح کی اجازت دی، اورنہ وہ نکاح کے وقت موجود تھی اور بعد میں بھی جب اسے نکاح کی اطلاع ہوئی، تو اس نے نکاح کو منظور نہیں کیا ؛ تو یہ نکاح شرعاً منعقد ہی نہیں ہوا ہیں۔
لمافی"الهنديہ":
لا يجوز نكاح أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها فإن أجازته؛ جاز، وإن ردته بطل ...
بالغة زوجها أبوها فبلغها الخبر فقالت: لا أريد أو قالت: لا أريد فلانا فالمختار أنه يكون ردا في الوجهين.....(الخ•)(كتاب النکاح، الباب الرابع في الأولياء في النكاح، وقت الدخول بالصغيرة: 1/287،288،ط:رشیدیہ)
وفی"البدائع الصنائع":
الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلا بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض.....(الخ•)
(کتاب النکاح، فصل ولاية الندب والاستحباب فی النکاح، 2/247.ط: سعید )