جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
کیاساس کی خدمت بیوی کی اخلاقی ذمہ داری ہے؟
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
ایک عورت کا کہنا ہے کہ ہماری ساس کی خدمت کا حق ہمارے اوپر نہیں ہے؛ بلکہ ہمارے شوہرکے اوپر ہے،ہمارے اوپر شوہر کا حق ہے ساس کا نہیں۔ تو سوال یہ ہے،کہ کیا شوھرکی والدہ کی خدمت بیوی پر ہے یا شوہر پر؟۔
واضح رہے کہ شرعاً عورت کے ذمے ساس کی خدمت واجب نہیں ہے؛ لیکن اخلاقی طور پر عورت کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے ، کہ وہ اُس کے شوہر کی ماں ہے تو جس طرح اپنی ماں کی راحت کا خیال رکھتی ہے اسی طرح شوہر کی ماں کی خدمت اور اُن
کو راحت پہنچانا اُس کی اخلاقی ذمہ داری میں شامل ہے۔
لمافی "شامیہ":
(وحـقــه عـلـيـهـا أن تطيعه في كل مباح يأمرها به) ظاهره أنه عندالأمر به منه يكون واجبًا عليها كأمر السلطان الرعية.....(الخ•)(کتابالنکاح،باب القسم ،3/208 ط:سعید)
وفی"فتاوی قاضي خان":
فإن كان لرجل والدة أو أخت أو ولد في غيرها في منزلها، فقالت: صيري في منزل على حدة كان لها ذلك.....(الخ•)(کتاب النکاح ،باب النفقہ،1/428ط:مکتبہ علوم اسلامیہ)