جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
اگر رشتہ دار سلام کا جواب نہ دے تو کیا کرے؟
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
اگر کوئی رشتہ دار قطع رحمی پر بضد ہو، اور سلام کا جواب بھی نہ دیتا ہو، تو اُس کا کیا حکم ہے؟۔
واضح رہے ،آپ اُن کو برابر سلام کرتے رہیں ، اگر وہ جواب نہیں دیتے ہیں ،تو سارا گناہ اُن کے اُوپر ہو گا۔
لمافی "سنن أبي داؤد":
عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لايكون المسلم أن يهجر مسلمًا فوق ثلاثة، فإذا لقيه سلم عليه ثلاث مرارٍ ، كل ذلک لا يردُّ عليه، فقد باء بإثمه.
(باب في هجرة الرجل أخاه 2/673رقم: 4913)
وفی "المسند للإمام أحمد بن حنبل":
عن هشام بن عامر رضي اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : لا يحل لمسلم أن يهجر مسلمًا فوق ثلاث ليال، فإنهما ناكبان عن الحق ما داما على صرامِهما، وأولهما فيء يكون سبقه بالفيء كفارةً له، وإن سلم فلم يقبل وردّ عليه سلامه، ردَّت عليه الملائكة، وردَّ على الآخرِ الشيطانُ، وإن ماتا
على صرامهما لم يدخلا الجنة جميعًا أبدًا (2014)