جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
پیشاب کے قطروں کے مریض ومعذور کے لئے کپڑوں کو بچانے کا طریقہ اور حکم؟
کیافرماتےہیں ،مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
میں گردوں کی مریضں ھو، پانی زیادہ پیتاھو ،تو پانی زیادہ استعمال کرنے سے مجھ پیشاب کا مسلہ زیادہ پیش اتا ھے اور پیشاب کا قطرے کپڑوں پر گرتاہے، تو کیا میں اسی کپڑوں میں نماز پڑسکتا ھو یا نہیں؟۔
واضح رہے،کہ معذور ادمی کےلئے کسی مجبوری کی وجہ سے اگر کپڑوں کا متاثرہ حصہ ہر نماز کے وقت دھونا ممکن نہ ہو ،تو اس مشکل سے بچنے کے لۓ سائل کو چاہیۓ کہ انڈرویئر میں ٹشوپیپر رکھ لیا کرے ،اور ہر وضوء و نماز کے وقت اسے اتارکر پہنک لیاکرے،غرض استنجاء کرنے کے بعد دوبارہ صاف ٹشوپیپر رکھا کرے۔
لمافی "الدر المختار" :
(و غسل طرف ثوب) أو بدن (أصابت نجاسة محلا منه و نسي) المحل (مطهر له و إن) وقع الغسل (بغير تحر) و هو المختار (کتاب الطھارة. مطلب العرقی الذی یستقطرمن دردی الخمرنجس حرام، بخلاف النوشادر،1/327ط : سعید)
وفی "حاشية ابن عابدين":
(قوله : و نسي المحل) بالبناء للمجهول ، ثم إن النسيان يقتضي سبق العلم و الظاهر أنه غير قيد و أنه لو علم أنه أصاب الثوب نجاسة و جهل محلها فالحكم كذلك و لذا عبر بعضهم بقوله "و اشتبه محلها " تأمل . (قوله : هو المختار)
(کتاب الطھارة1/327ط: سعید)
وفی "الفتاوى الهندية":
مريض تحته ثياب نجسة إن كان بحال لا يبسط شيء إلا و يتنجس من ساعته يصلي على حاله و كذا إذا لم يتنجس الثاني لكن يلحقه زيادة مشقة بالتحويل(کتاب الطھارة الباب الرابع عشرفی الصلاةالمریض1/137 ط: اسلامیہ )