جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
تشہد میں ’’لا الٰہ‘‘ پر انگلی اٹھانے اور ’’الا اللہ‘‘ پر انگلی رکھنے کا ثبوت
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
تشہد میں شہادت کی انگلی سے اشارہ خاص طور پر کلمہ شہادت ہی پر کرنا کس حدیث سے ثابت ہے جیسا کہ کتب فقہ میں لکھا ہے کہ لا الہ پر انگلی اٹھائی جائے اورالا اللّٰہ پر رکھے جائے؟-
واضح رہے کہ تشہد میں انگلی اٹھانا سنت ہے، فقہاءِ کرام نے لکھا ہے کہ ’’لاالٰہ‘‘ پر شہادت کی انگلی اٹھائی جائے اور ’’الااللہ‘‘ پر رکھ دی جائے۔یعنی احادیث میں رسول اللہ ﷺ کا تشہد کے وقت شہادت کی انگلی اٹھانے کا تذکرہ ہے،لیکن ’’لا الٰہ‘‘ پر انگلی اٹھانے اور ’’الا اللہ‘‘ پر نیچے رکھنے کی صراحت احادیث میں نہیں، البتہ فقہاء نے اس کو ذکر کیا ہے اور وجہ یہ لکھی ہے کہ انگلی کا اٹھانا نفی کا اشارہ ہے اس لئے ’’لا الٰہ‘‘ جو کہ(اللہ تعالیٰ کے ماسوا سب سے الوہیت کی) قولی نفی ہے تو اس کے ساتھ ہی انگلی اٹھانی چاہیئے تاکہ قولی نفی اور فعلی نفی دونوں ایک ہی وقت میں جمع ہوجائیں، جبکہ انگلی کا رکھنا اثبات کا اشارہ ہے اور ’’الا اللہ‘‘ میں بھی (خالص اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے الوہیت کا) اثبات موجود ہے، چنانچہ ’’الا اللہ‘‘ پر انگلی رکھنے سے قولی اثبات اور فعلی اثبات دونوں ایک ہی وقت میں جمع ہوجائیں گے۔
لمافی "سنن أبي داود":
حدثنا أحمد بن حنبل، حدثنا عبد الملك بن عمرو، أخبرنى فليح، حدثنى عباس بن سهل قال: "اجتمع أبو حميد وأبو أسيد وسهل بن سعد ومحمد بن مسلمة، فذكروا صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أبو حميد: أنا أعلمكم بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر بعض هذا قال: ثم ركع فوضع يديه على ركبتيه كأنه قابض عليهما، ووتر يديه فتجافى عن جنبيه وقال: ثم سجد فأمكن أنفه وجبهته ونحى يديه عن جنبيه ووضع كفيه حذو منكبيه، ثم رفع رأسه حتى رجع كل عظم فى موضعه، حتى فرغ، ثم جلس فافترش رجله اليسرى وأقبل بصدر اليمنى على قبلته، ووضع كفه اليمنى على ركبته اليمنى و كفه اليسرى على ركبته اليسرى و أشار بأصبعه.....(إلخ•)
( كتاب الصلاة ، 1/267 ط:دار الكتاب العربي)
وفی "مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح":
وعندنا: يرفعها عند لا إله، ويضعها عند إلا الله لمناسبة الرفع للنفي، وملائمة الوضع للإثبات، ومطابقة بين القول والفعل حقيقة، قال ابن حجر: سميت بالسبابة لأنه كان يشار بها عند المخاصمة والسب، وسميت أيضا مسبحة لأنه يشار بها إلى التوحيد والتنزيه،فاندفع النظر في تسميتها بذلك ; لأنها ليست آلةالتسبيح.....(إلخ•)
( كتاب الصلاة،2/729ط:دار الفكر)
وفی "الدر المختار وحاشية ابن عابدين":
وفي المحيط: أنها سنة، يرفعها عند النفي، ويضعها عند الإثبات، وهو قول أبي حنيفة ومحمد، وكثرت به الآثار والأخبار فالعمل به أولى ..... فهو صريح في أن المفتى به هو الإشارة بالمسبحة مع عقد الأصابع على الكيفية المذكورة لا مع بسطها، فإنه لا إشارة مع البسط عندنا، ولذا قال في منية المصلي: فإن أشار يعقد الخنصر والبنصر ويحلق الوسطى بالإبهام ويقيم السبابة. وقال في شرحها الصغير: وهل يشير عند الشهادة عندنا؟ فيه اختلاف، صحح في الخلاصة والبزازية أنه لايشير، وصحح في شرح الهداية أنه يشير، وكذا في الملتقط وغيره.....(إلخ•)
(كتاب الصلاة ، مطلب إطالة الركوع إلى الجائ،1/508ط: سعید)