جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
مدرسہ کی زائد أشیاء کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں!
کہ ایک مدرسے کی زائد اشیاء جیسے قالین وغیرہ کسی دوسرے مدرسے کو دینا جائز ہے یا نہیں؟-
واضح رہے کہ مدرسہ کی مملوکہ اشیاء اگر شکستہ یا پرانے ہوکر ناقابلِ انتفاع ہوجائیں، یا مدرسہ کی موجودہ یا مستقبل کی ضرورت سے زیادہ ہوں تو انہیں فروخت کرکے اسی مدرسہ کے مصارف میں استعمال کیا جائے گا اور اگر ان اشیاء کا فروخت ہونا ممکن نہ ہو اور ان اشیاء کے ضائع ہوجانے کا قوی امکان ہو تو اسے قریب کے کسی مدرسے میں دے دیا جائے۔
لمافی "رد المحتار على الدر المختار":
(قوله: ومثله حشيش المسجد الخ) أي الحشيش الذي يفرش بدل الحصر كما يفعل في بعض البلاد كبلاد الصعيد كما أخبرني به بعضهم، قال الزيلعي: وعلى هذا حصير المسجد و حشيشه إذا استغنى عنهما يرجع إلى مالكه عند محمد، و عند أبي يوسف ينقل إلى مسجد آخر، و على هذا الخلاف الرباط و البئر إذا لم ينتفع بهما ... و صرح في الخانية بأن الفتوى على قول محمد، قال في البحر: و به علم أن الفتوى على قول محمد في آلات المسجد، و على قول أبي يوسف في تأبيد المسجد ... و المراد بآلات المسجد نحو القنديل و الحصير بخلاف أنقاضه لما قدمنا عنه قريباً من أن الفتوى على أن المسجد لايعود ميراثاً ولايجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر.....(إلخ•)
كتاب الوقف ، مطلب فيما لو خرب المسجد او غيره ، 6/551،ط: رحمانيه)