جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
مدرسہ کی بوسیدہ رحل جلانا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں!
کہ مدرسے کی بوسیدہ رحل کو جلانا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟-
واضح رہےکہ مدرسہ کی وقف اشیاء کو ضائع کرنا درست نہیں ہے ؛لہذا رحل بوسیدہ ہوجائے تو اس کی لکڑی یا پلاسٹک کو اگر کسی طرح مدرسہ کی ایسی ضروریات میں استعمال کرنا ممکن ہو جس میں اس لکڑی یا پلاسٹک کی بےاحترامی نہ ہو، تو مدرسہ کی ضروریات میں استعمال کرلیا جائے اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو اس لکڑی یا پلاسٹک کو ایسے شخص پر بیچ دیا جائے کہ جو اسے کسی ناپاک یا ایسی جگہ میں استعمال نہ کرے جس سے ان کی بے ادبی ہوتی ہو، پھر اس کی رقم مدرسہ کی ضروریات میں استعمال کرلی جائے، وقف اشیاء کا تلف کرنا جائز نہیں۔
لمافی"الدر المختار مع رد المحتار":
(و صرف) الحاكم أو المتولي حاوي (نقضه) أو ثمنه إن تعذر إعادة عينه (إلى عمارته إن احتاج و إلا حفظه له ليحتاج) إلا إذا خاف ضياعه فيبيعه و يمسك ثمنه ليحتاج حاوي.مطلب في الوقف إذا خرب ولم يمكن عمارته (قوله: وفي فتاوى قارئ الهداية إلخ) حيث قال سئل عن وقف انهدم ولم يكن له شيء يعمر منه، ولا أمكن إجارته ولا تعميره، هل تباع أنقاضه من حجر وطوب وخشب؟ أجاب: إذا كان الأموال كذلك صح بيعه بأمر الحاكم، ويشترى بثمنه وقف مكانه فإذا لم يمكن رده إلى ورثة الواقف إن وجدوا ولا يصرف للفقراء. اهـ.قلت: الظاهر أن البيع مبني على قول أبي يوسف، و الرد إلى الورثة أو إلى الفقراء على قول محمد، و هو جمع حسن حاصله أنه يعمل بقول أبي يوسف، حيث أمكن و إلا فبقول محمد تأمل.....(إلخ•)
(كتاب الوقف ، مطلب في الوقف إذا خرب و لم يمكن عمارته ، 6/577 ، ط: رحمانيه)
وفيه "أيضًا":
يجوز رمي براية القلم الجديد، و لاترمى براية القلم المستعمل لاحترامه كحشيش المسجد و كناسته لايلقى في موضع يخل بالتعظيم.....(إلخ•)
(كتاب الطهارة ، مطلب يطلق الدعاء على ما يشمل الثناء، 1/178،ط:سعيد)