جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
دانتوں پر کیپ اور فلنگ(پوش) کی صورت میں وضوء اور غسل کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں!
کہ دانتوں پر کیپ(پوش) وغیرہ چڑھا ہوا ہو تو وضو اور غسل کا کیا حکم ہے؟ کیا وضو اور غسل ہوجائیں گے یا نہیں؟ اور دانتوں میں فیلنگ (بھرائی) وغیرہ کی گئی ہو تو اس صورت میں وضوء اور غسل کا کیا حکم ہے؟۔
واضح رہے کہ دانتوں پر کیپ(پوش) وغیرہ اس طرح چڑھایا گیا ہو کہ وہ بالکل فکس ہوگیا ہو تو وہ دانت کے حکم میں ہوجائے گا اور اس حالت میں کلی کرنے سے غسل صحیح ہوجائے گا اور وضو میں کلی کرنے کی سنت بھی ادا ہوجائے گی، اور اگر کیپ کو دانت سے اتار کر دوبارہ چڑھایا جاسکتا ہو یعنی فکس نہ ہو، تو اس صورت میں واجب غسل کے لیے کیپ کو نکال کر کلی کرنا لازم ہوگا،اور وضو میں بھی سنت پر عمل کرنے کے لیے خول اتارنا ضروری ہوگا، اسی طرح دانتوں میں علاج کے طور پر فلنگ (بھرائی وغیرہ) کی جاتی ہے اس صورت میں وضوء اور غسل دونوں صحیح ہیں۔
لما في"الشامية":
"(و) لا يمنع (ما على ظفر صباغ و) لا (طعام بين أسنانه) أو في سنه المجوف به يفتى. وقيل إن صلبا منع، وهو الأصح.....(إلخ•)
(کتاب الطہارۃ ، مطلب في أبحاث الغسل ، 154 /1، ط سعید)
وفی "الشامية":
الأصل وجوب الغسل إلا أنه سقط للحرج.....(إلخ•)
( كتاب الطہارۃ ، مطلب في أبحاث الغسل ، 153 /1، ط : سعید)
وفی " الشامية":
(لا) يجب (غسل ما فيه حرج كعين) وإن اكتحل بكحل نجس (وثقب انضم و) لا (داخل قلفة).....(إلخ•) (كتاب الطہارۃ، مطلب في أبحاث الغسل ، 152/1،ط :سعید)
وفی " الهندية":
ولو انكسر ظفره فجعل عليه دواء أو علكا فإن كان يضره نزعه مسح عليه وإن ضره المسح تركه.....(إلخ•)
(كتاب الطهارة ، الباب الثانی فی نواقض المسح، 35 /1، ط: رشیدیه)