جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
معتمر یا حاجی نے حلق نہ کرے تو حج کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں!
اگر کوئی آدمی حج یا عمرہ کرے اور حلق نہ کرے(یعنی سر کے بال نہ منڈوائے) تو اس کا کیا حکم ہے؟ـ
واضح رہے کہ حج اور عمرہ کے ارکان ادا کرنے کے بعد حلق (یعنی سر کے بال منڈوانا) یا قصر (کم از کم ایک چوتھائی سر کے بال کم از کم ایک پورے کے برابر کاٹنا) ضروری ہے؛ لہذا اگر پورے سر کا حلق نہیں کرایا، لیکن چوتھائی سر کے بال ایک پورے کے بقدر کٹوالیے ہیں یعنی قصر کیا ہے یا چوتھائی سر کا حلق کیا ہے تو بھی حلال ہونے کے لیے کافی ہے، اس سے دم واجب نہیں ہوتا، تاہم اس طرح سر کے کچھ حصے کے بال کاٹنا اور کچھ حصے کے بال چھوڑدینا مکروہ ہے؛ لہٰذا حلق یا قصر پورے سر کے بالوں کا کرنا چاہیے۔ اور اگر معتمر یا حاجی نے احرام کھولنے کے لیے قصر بھی نہیں کیا اور احرام کھول دیا تو پھر ایسی صورت میں دم واجب ہو گا۔
لمافی"الصحیح المسلم":
قال زهير: حدثنا محمد بن فضيل، حدثنا عمارة، عن أبي زرعة، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «اللهم اغفر للمحلقين»، قالوا: يا رسول الله، وللمقصرين؟، قال: «اللهم اغفر للمحلقين» قالوا: يا رسول الله، وللمقصرين؟، قال: «اللهم اغفر للمحلقين»، قالوا: يا رسول الله، وللمقصرين؟ قال: «وللمقصرين.....(إلخ•)
(كتاب الحج، باب تفضيل الحلق على التقصير وجواز التقصير،2/945 رقم الحدیث: 1302،ط:دار إحياء التراث العربي بيروت)
لما فی"الشامية":
(أو حلق في حل بحج) في أيام النحر، فلو بعدها فدمان (أو عمرة) لاختصاص الحلق بالحرم.(قوله: أو حلق في حل بحج أو عمرة) أي يجب دم لو حلق للحج أو العمرة في الحل؛ لتوقته بالمكان، وهذا عندهما، خلافاً للثاني، (قوله: في أيام النحر) متعلق بحلق بقيد كونه للحج، ولذا قدمه على قوله أو عمرة، فيتقيد حلق الحاج بالزمان أيضاً، وخالف فيه محمد، وخالف أبو يوسف فيهما، وهذا الخلاف في التضمين بالدم لا في التحلل؛ فإنه يحصل بالحلق في أي زمان أو مكان، فتح. وأما حلق العمرة فلا يتوقت بالزمان إجماعاً، هداية. وكلام الدرر يوهم أن قوله: في أيام النحر قيد للحج والعمرة، وعزاه إلى الزيلعي، مع أنه لا إيهام في كلام الزيلعي كما يعلم بمراجعته، (قوله: فدمان) دم للمكان ودم للزمان، ط، (قوله: لاختصاص الحلق) أي لهما بالحرم وللحج في أيام النحر.....(إلخ•)
(كتاب الحج ،باب الجنایات 2/554،ط: ایچ،ایم،سعید)