جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
قبرستان میں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
قبرستان میں ہوتے وقت ہاتھ اٹھاتے کر دعا کرنا کیسا ھے؟-
بعض مواقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قبر پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا ثابت ہے، لیکن ان مواقع پر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رو ہو کر دعا فرماتے تھے۔
قبر کی طرف رخ کر کے دعا مانگنے میں صاحبِ قبر سے مانگنے کا شبہ ہو سکتا ہے؛ اس لیے بہتر ہے کہ قبر پر جاکر دعا کرنی ہو تو ہاتھ اٹھائے بغیر ہی دعا کرلے، اور اگر ہاتھ اٹھاکر دعا کرنی ہو تو قبلہ کی طرف رخ کرکے ہاتھ اٹھاکر دعا کرلی جائے؛ تاکہ قبر یا صاحبِ قبر سے مانگنے کا شبہ نہ ہو۔
لمافی "فتاوی ہندیہ":
"وإذا أراد الدعاء يقوم مستقبل القبلة، كذا في خزانة الفتاوى."
(كتاب الكراهية، الباب السادس عشر في زيارة القبور، 5/350، طبع: دار الفكر)
"ملفوظات حکیم الامت میں ہے":
”قبر پر ہاتھ اٹھا کر دعا نہ مانگنا چاہیے، حتی کہ دفن کے وقت بھی انتظامِ شریعت اسی میں ملحوظ ہے؛ تا کہ کسی کو یہ شبہ نہ ہو جائے کہ مردہ سے حاجت مانگی جاتی ہے۔
(11/164، ط:تالیفات اشرفیہ)