جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
کفارے کے روزوں میں تسلسل شرط ہے
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
کہ ایک شخص نے کفارہ کے
روزے رکھے لیکن درمیان میں ایک دن ناغہ ھوگیا جس کی وجہ سے کفارہ کے روزے پورے نہ کر سکا تو کیااب از سر نو دوبارہ رکھے گا یا باقی ماندہ رکھے گا؟-
واضح رہے اس صورت میں یہ شخص دوبارہ از سرنو کفارہ کے روزے رکھے گا، کفارہ کےروزوں میں تسلسل ضروری ہے، صرف عورتوں کے ماہواری کے دن اس حکم سےمثتثنی میں بیماری
وغیرہ کی وجہ سے تسلسل ٹوٹ جائے تو واپس رکھنے کا حکم ہے۔
لما في "الشامي":
فان لم يجدصام شهرين متتابعين فان لم يستطع اطعم ستين مسكينا لحديث
الأعرابي في الكتب الستة فلو افطر ولو بعذر استانف الابعذر الحيض(2/412)
و في "حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح":
صام شهرين متتابعين فان افطر ولو بعذر غير الحيض استانف ويلزمها الوصل بعد طهرها من الحيض حتى لو لم تصل تستانف ذكره السيد(670)
و في "البحر الرائق":
فلوافطر يوما في خلال المدة بطل ماقبله ولزمه الاستقبال سواء افطر لعذر اولا وكذفي كفارة القتل والظهار للنص على التتابع الالعذر الحيض لانها لا تجد شهرين عادة لا تحيض فيها(2/277)