جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
غائب شوہر کی وفات کی خبر پہنچنے پر عدت کا حکم
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
کہ میرے شوہر مجھے چھوڑ کر چار سال قبل کراچی چلے گئے، اور مجھے انہوں نے طلاق نہیں دی تھی ،اور نہ میں نے ان سے طلاق طلب کی تھی، ان سے مجھے اولاد بھی ہے، اب پچیس روز قبل مجھے اُن کے انتقال کی خبر ملی ہے، تو کیا مجھ پر عدت گزارنا واجب ہے؟۔
واضح رہے جب شوہر کے انتقال کی خبرمل چکی ہے، تو آپ پر چار ماہ دس دن عدت گزارنا واجب ہے، اور یہ عدت وفات کے دن سے شمار ہوگی۔
لمافی "فتاوى قاضي خان":
المرأة إذا بلغها طلاق زوجها الغائب أو موته تعتبر عدتها من وقت الموت والطلاق عندنا لا من وقت الخبر.(1/552 )
وفی "الدر المختار":
ومبدأ العدة بعد الطلاق وبعد الموت على الفور، وتنقضي العدة وإن جهلت المرأة بهما أي بالطلاق والموت؛ لأنها أجل فلا يشترط العلم مضيه.(باب العدة مطلب: في وطء المعتدة بشبهة 3/520 )