جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
نامرد لڑکے سے خلوت صحیحہ کے بعد خلع کرانے پر عدت کا حکم؟
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
کہ ایک صاحب سے ایک لڑکی کی شادی ہوئی، ساڑھے تین ماہ بعد لڑکی نے خلع لے لی؛کیوں کہ لڑکا نامرد تھا، خلوت صحیحہ ہوئی ، لیکن ہم بستری نہیں ہوئی ، اس شکل میں لڑکی عدت کے ایام گزارےگی یانہیں؟۔
صورت مسٸولہ میں جب کہ خلوت صحیحہ ہو چکی ہے، اس لئے خلع کے بعد لڑکی کے لئے عدت گزارنا ضروری ہے ، یعنی تین ماہواری تک وہ گھر میں رہے اور اس دوران کسی سے نکاح نہ کرے۔
لمافی "القران مجید":
﴿ وَلَا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَبُ أَجَلَهُ ﴾(البقرة: 235)
وفی "شاميہ":
والخلوة بلا مانع كالوطء إلى قوله في ثبوت النسب وتأكد المهر،والعدة إلى قوله وخلوة الزوج، مثل الوطء في صور تكميل مهر وإعداد(4/258.249 ط;زكريا)
وفی "شاميہ":
وهي العدة في حق حرة، تحيض لطلاق أو فسخ بعد الدخول حقيقة أوحكمًا، ثلاث حيض كوامل(5/182.181 ط زكريا)