جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
ولیمہ کی تاخیر کا حکم
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
ولیمہ کی تاخیر کب تک درست ہے؟۔
مسنون ولیمہ وہ ہے جو میاں بیوی کے ملنے کے بعد ہو، کیونکہ اس کا اصل مقصد ایک حلال وجائز تعلق کا اعلان و اظہار ہے، جس رات بیوی کے ساتھ خلوت ہو اس دن یا اگلے دن ولیمہ کر لینا چاہئے ، نیز
تیسرے روز تک مؤخر کرنے کی بھی گنجائش ہے، لیکن تین دن سے زیادہ تاخیر درست نہیں ہے۔
لمافی "عمدۃ القاری":
ومنه مارواه البيهقي من حديث أنسؓ : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:الوليمة أول يوم حق، والثاني معروف، والثالث رياء وسمعة ، وقال صاحب التلويح: سنده صحيح فإن قلت : قد قال البيهقي: ليس هذا الحديث بقوي وفيه بكير بن خنيس تكلموا فيه، قلت: أثنى عليه جماعة منهم أحمد بن صالح العجلي قال: كوفي ثقة، وقال البرقي عن يحيى بن معين : لا بأس به، وخرج الحاكم حديثه في المستدرك. (باب اجابة الوليمة، 14/130)
وفی "عالمگیری":
ولا بأس بأن يدعو يومئذ من الغد وبعد الغد ثم ينقطع العرس والوليمة،( كتاب الكراهية، الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات5/343)
وفی"فتاوی محمودیہ":
دعوت ولیمہ شادی اور رخصتی سے تین روز تک ہوتی ہے، اس کے بعد نہیں ۔ (12/141)
وفی "کتاب الفتاوی" :
ولیمہ کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ جس دن میاں بیوی کی خلوت ہوئی ہو، اس کے دوسرے دن دعوت کر دی جائے، حضرت انسؓ ، کی روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالی عنہا سے نکاح ہوا تو دوسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو مدعو کیا اور کھانا کھلایا ، ( صحیح بخاری)دوسرے دن یا تیسرے دن بھی کھلانے کی گنجائش ہے، اس سے زیادہ تا خیر ثابت نہیں۔ (نکاح میں دعوت اور ولیمہ کے احکام 4/420)