جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
دعوت ولیمہ میں منکرات ہوں تو شرکت کا حکم
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
اگر دعوت ولیمہ میں گانا بجانا ،ویڈیو کیمرہ عورتوں اور مردوں کا اختلاط وغیرہ منکرات ہوں توایسی دعوت میں شرکت کر سکتے ہیں یا نہیں؟۔
واضح رہے ایسی دعوتوں میں شرکت کی گنجائش نہیں ہے۔
لمافی "البحر الرائق":
وإن كان هناك لعب وغناء قبل أن يحضر فلا يحضر لأنه لا يلزمه الإجابة إذا كان هناك منكر لماروي عن علىؓ قال: صنعت للنبي صلى الله عليه وسلم طعاماً فدعوته له فحضر فرأى في البيت تصاوير فرجع( كتاب الكراهية،8/188)
وفی "کتاب الفتاوی":
گانا بجانا،ویڈیوگرافی،نیز فوٹوگرافی،گناہ اور معصیت ہے اور جس دعوت میں معصیت کا ارتکاب ہواس میں شرکت جائز نہیں، مشہور فقیہ علامہ شامی نے اپنے زمانہ میں فسق و فجور کی کثرت کو دیکھتے ہوئے لکھا ہے کہ ہمارے زمانہ میں جب تک معلوم نہ ہو کہ دعوت میں معصیت و بدعت نہیں ہوگی ، اس وقت تک اس میں شرکت نہیں کرنی چاہئے ۔
وفی "ردالمحتار":
والامتناع أصـل فـي زمــانـــا إلا إذا عـلـم يـقـيـنـا أن لا بدعة ولا مـعـصـيـة “( 9/501)
"نکاح میں دعوت اور ولیمہ کے احکام":
ہمارے اس عہد میں تو بدرجہ اولیٰ جب تک ایسی دعوتوں کے منکرات سے خالی ہونےکا اطمینان نہ ہو جائے ،شرکت نہیں کرنی چاہئے ، اگر سماج کے سمجھدار اور باشعور لوگ اپنے آپ کو ایسی دعوتوں سےدور رکھیں تو شاید معاشرے کی کچھ اصلاح ہو سکے۔(4/414)