جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
میت کو غسل دینے کی اصل ذمہ داری کس کی ہے؟
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
کہ گاؤں میں میت ہوتی ہے, تو میت کو غسل دینے کی ذمہ داری کس کی ہے؟ مسجد کے امام کی یا رشتہ داروں کی یا گاؤں والوں کی؟۔
میّت کو غسل دینا بھی باعثِ اجر وثواب ہے، اور شرعاً اس کی اصل ذمہ داری اہلِ میت پر ہے، اگر ان میں سے کوئی نہ ہو یا وہ اس کا طریقہ نہ جانتے ہوں، تو پھر دیگر متعلقین اور اہلِ محلہ (جن میں امام مسجد بھی داخل ہے) پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے، صرف امام مسجد کو اس کا ذمہ دار قرار دینے سے احتراز چاہیے۔
لمافی "الهندية":
غسل الميت حق واجب على الأحياء بالسنة واجماع الأمة، كذا في النهاية، ولكن إذا قام به البعض سقط عن الباقين، كذا في الكافي اھ(1/158)
وفی "أیضاً":
ويستحب للغاسل أن يكون أقرب الناس إلى الميت فإن لم يعلم الغسل فأهل الأمانة والورع، كذا في الزاهدي اھ (1/159)