جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
کتابیں خرید کر مدرسہ میں دینےسے زکوۃ کی ادائیگی کا حکم؟
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
میں نے ایک آدمی کو ایک ہزار روپیہ زکوۃ کی رقم دی مدرسہ میں دینے کے لیے،اس نے اس رقم کواپنی کسی ضرورت میں استعمال کر لیا، پھر اس نے اس کے عوض میں مدرسہ کو کچھ کتابیں دیدی جن کی قیمت ایک
ہزار تین سو روپیہ تھی،کیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور زکوۃ ادا ہوئی یا نہیں؟۔
بصورت مسئولہ آپ کی زکوۃ ادا نہیں ہوئی دوبارہ ادا کرنا لازمی اور ضروری ہوگا،وکیل باداءالزکوۃ کا زکوۃ کی رقم اپنے استعمال میں لانا زکوۃ ادا کرنے سے پہلے درست نہیں ہے، اس سے زکوۃ ادا نہیں ہوتی ، مزید براں زکوۃ فقیر کو تملیکاََ دی جاتی ہے اور کتابیں مدرسہ کے کتب خانہ میں رکھی جاتی ہیں اس میں تملیک بھی نہیں پائی گئی; ہاں اگر زکوۃ کی رقم میں تبدیلی کی اجازت ہو اور کتابیں خرید کر فقیر طلباء کو مالک بنادیا جائے تو زکوۃ ادا ہوگی۔
لمافی "الشاميہ":
قوله ولو تصدق، أى الوكيل بدفع الزكاة إذا أمسك دراهم الموکل ودفع من ماله ليرجع ببدلها في دراهم الموكل صح بخلاف ما إذا أنفقها أولاً على نفسه مثلاً ثم دفع من ماله فهو متبرع ... وفيه إشارة إلى أنه لا يشترط الدفع من عين مال الزكاة ولذا لو أمر غيره
بالدفع عنه جاز ( 2/270,269ط: سعید)
وفی "الدر المختار":
وقال في الدر: ويشترط أن يكون الصرف تمليكاً لا إباحة كما مر لا يصرف إلى بناءنحو مسجد ولا إلى كفن ميت وقضاء دينه... الخ. (2/344 ، ط: سعيد)