جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
مسلمان نہیں کہنے کا حکم
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
کوئی شخص کسی سے کہہ دے کہ تو مسلمان نہیں ہے، وہ جواب میں کہے کہ ٹھیک ہے، میں مسلمان نہیں ہوں تو کیا وہ اسلام سے خارج ہوگا یا نہیں؟۔
واضح رہے سوال کرنے والے کا مقصد یہ ہے کہ تیرے اعمال مسلمانوں جیسے نہیں ہیں، جواب میں بھی یہی معنی
ملحوظ ہوں گے، اس لیے ایسا کہنے سے دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہو گا۔
لمافی "الخانية بهامش عالمگيرية":
قال قاضيخان رحمة الله تعالى: رجل ضرب امرأته فقالت المرأة: لست بمسلم فقال الرجل: هب فإني لست بمسلم، قال الشيخ الإمام أبوبكر محمد بن الفضل رحمة الله تعالى: لا يصير كافرا بذلك فقد حكي عن بعض
أصحابنا أن رجلا لوقيل له: ألست بمسلم ؟ فقال: لا، لايكون ذلك كفرا؛ لأن قول الناس ليس بمسلم معناه أن أفعاله ليست من أفعال المسلمين.وقال الشيخ الإمام الزاهد رحمة الله تعالى : إذا لم يكن كفرا عندبعض الناس فقوله: هب أنى لست بمسلم أبعد من ذلك (3/572)