جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
قضاء عمری کا ایک منگھڑت طریقہ
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
رمضان کے آخری جمعہ کے دن قضاء عمری کے نام سے ایک نماز پڑھی جاتی ہے، جس کے
بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس سے عمر بھر کی قضاء نمازیں معاف ہو جاتی ہیں، جو لوگ پڑھتے ہیں وہ ایک حدیث پیش کرتے ہیں دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایسی کوئی روایت کتب حدیث میں ملتی ہے؟ نیز قضاء
عمری پڑھنا کیسا ہے؟۔
قضاءعمری کے اس طریقے کے بارے جو حدیث پیش کی جاتی ہے وہ موضوع و باطل ہے، خیر القرون سے بھی اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا اس پر اجماع ہے کہ کوئی عبادت سالوں کی فوت شدہ نمازوں کے قائم
مقام نہیں ہوسکتی، لہذا قضاء عمری کا یہ طریقہ بدعت سیئہ اور واجب الترک ہے۔
لمافی "الأسرارالمرفوعة في الأخبار الموضوعةالمعروف بالموضوعات الکبری":
قال المحدث الفقيه الملا علي القاري رحمة الله تعالى: حديث: من قضى صلاة من الفرائض في أخر جمعة من شهر رمضان كان ذلك جابرا الكل صلاة فاٸته في عمره إلى سبعين سنة، باطل قطعاء لأنه مناقض للإجماع على أن شيئا من العبادات لا يقوم مقام فائتة سنوات، ثم لا عبرة
بنقل صاحب النهاية ولا ببقية شراح الهداية فإنهم ليسوا من المحدثين ولا أسندوا الحديث إلى أحد من المخرجين.(342)