جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
حجام (حمام والوں)کو دکان کرایہ پر دینے کا حکم
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں !
کیا حجام (حمام والوں) کو دکان کرایہ پر دینا جائز ہے؟۔
حجام اورحمام والوں کو دکان کرایہ پر دینے کا حکم جاننے سے پہلے حجام کی اپنی اجرت کا حکم جان لینا چاہیے، چنانچہ حمام میں جو کام حرام ہیں، یعنی داڑھی مونڈنا یا مشت سے کم کرنا یا حُسن کی غرض سے بھنویں بنانا، ان کاموں کی اجرت بھی حرام ہے، اور جو کام جائز ہیں جیسے: سر کے بال کاٹنا یا ایک مشت سے زائد ڈاڑھی کو شرعی طریقے پر درست کرنا، ان کاموں کی اجرت بھی حلال ہے، البتہ جس طرح خلافِ شرع بال (مثلاً: سر کے کچھ حصے کے بال چھوٹے اور کچھ بال کو بڑے) رکھنا ممنوع ہے، اسی طرح خلافِ شرع بال کاٹنے کی اجرت بھی حلالِ طیب نہیں۔
اب حجام (حمام والوں) کو دکان کرایہ پر دینے کا حکم یہ ہے کہ اگر حمام والا اس دکان میں افعالِ ممنوعہ کرتا ہو تو اس کو کرایہ پر دکان دینا مکروہ ہے، مالکِ دکان کو چاہیے کہ حجام(حمام والوں) کو اس کا پابند کرے کہ وہ اس دکان میں غیر شرعی کام نہ کرے، ورنہ کسی اور نیک حجام (حمام والے)کو دکان کرایہ پر دے، اپنی دکان کو ناجائز کام کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔
لمافی "المبسوط":
’’لابأس بأن یواجر المسلم داراً من الذمي لیسكنها، فإن شرب فیها الخمر أو عبد فیها الصلیب أو أدخل فیها الخنازیر لم یلحق للمسلم أثم في شيءٍ من ذلك؛ لأنه لم یوجرها لذلك والمعصیة في فعل المستاجر دون قصد رب الدار فلا إثم علی رب الدار في ذلك‘‘. ( 16/309)