جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
جڑواں بچوں میں نفاس کی مدت کب سے شمار ہوگی
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسلے کے بارے میں!
کسی عورت کے دو بچے ہوئے ، جس میں پہلے بچہ ساقط ھوگیا دوسرا بچہ بعد پیدا ہوا، اب اس عورت کا ا مدتِ نفاس کب سے شروع ھوگا؟۔
صورتِ مسئولہ میں عورت کی مدت نفاس پہلے حمل سے شمار ہوگی،اوردوسرے حمل کے بعدجو خون دیکھا جاۓ،اس کو استحاضہ شمار کیا جاۓگا۔
لمافی "الدر المختار":
(والنفاس لأم توأمين من الأول) هما ولدان بينهما دون نصف حول(301 /1، ط: دار الفکر)
وفی "فتاوی عالمگیری":
"ونفاس التوأمين من الأول. كذا في الكافي وشرط التوأمين أن يكون بين الولدين أقل من ستة أشهر وإذا كان بينهما ستة أشهر أو أكثر فهما حملان ونفاسان(کتاب الطہارۃ،الفصل الثانی فی النفاس،37 /1،ط:دار الفکر بیروت)