جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
ملازمت پیشہ عورت عدت کیسے گزارے؟
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
کہ آج کے زمانہ میں عورتیں بے پردہ ہو کر مردوں کے ساتھ ملازمت کرتی ہیں، اور دوسری اپنی ضرورت کی چیز میں بازار سے لاتی ہیں، اُن کی عدت کے بارے میں کیا حکم ہے اور عورت ضعیفہ کی اور وہ بھی بے پردہ رہتی ہو، تو اُس کے لئے کیا حکم ہے؟۔
واضح رہے عدت اصل میں وقت مقررہ کے گذرنے کا نام ہے،اور اس میں گھر سے باہر نہ نکلنے وغیرہ کے احکامات معتدہ پر واجب ہیں ،جن کے بلاعذرترک کرنےسے معتدہ گنہگار ہو گی، لیکن اس کوتاہی کے باوجود وقت مقررہ کےگذرنے پر عدت پوری ہو جائےگی، اور اس عورت کے لئے دوسرے نکاح کی پابندی ختم ہو جائے گی ۔
لمافی "صحيح المسلم":
عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه قال: طلقت خالتي فأرادت أن تجدنخلها فزجرها رجل أن تخرج، فأتت النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: بلى فـجـدي نخلك ، فإنك عسى أن تصدَّ في أو تفعلي معروفًا. ( باب جواز خروج المعتدة البائن، والمتوفى عنها زوجها في النهار لحاجتها رقم: 1483)
وفی"شرح الابي والسنوسي على صحیح المسلم":
قال أبو حنيفة: ذلك في المتوفى عنها، وأما المطلقة فلا تخرج ليلاً ولانهارًا، وقال محمد: لا يخرج الجميع بليل ولا نهارا.(
236 /5 ط:دار الكتب العلمية بيروت)
وفی "الشامیة":
لأن معنى العدة وجوب الانتظار بالتزوج وهو مضي المدة (شامی 503 /3 ط کراچی)
وفی "الشامیة":
والخوف شديداً وإلا فلا. ( 225;226 /5 زكريا)