جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
کسی مریض کو شدید تکلیف میں دیکھ کراس کیلئے موت کی دعا کرنا جائز نہیں
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
کیا کسی مریض کو تکلیف میں دیکھ کر اس کے لئے موت کی دعا کی جاسکتی ہے تا کہ اس کی تکلیف کم ہو۔ جیسے کینسر کے مریض کے لئے؟۔
مریض کے لئے شفاء اور عافیت کی دعا کرنا مسنون ہے اور شدید مرض یا کسی بھی دنیاوی مصیبت کی وجہ سے موت کی دعا کرنا جائز نہیں ہے اور یہ کہنا کہ مرنے کے بعد
تکلیف ختم ہو جائیگی اس لئے صحیح نہیں کہ مرنے کے بعد اللہ تعالی کیا معاملہ فرمائیں اس کایقینی علم کسی کو نہیں ؛البتہ اگر تکلیف پر صبر مشکل ہو جائے تو مریض کے لئے اس طرح دعاکرنے کی گنجائش ہے کہ یا اللہ جب تک میرے لئے زندگی بہتر ہے مجھے زندہ رکھ، اور جب موت بہتر ہو مجھے موت عطاء فرما اور اس شخص کے لئے راحت و آرام کی دعا بھی کی جاسکتی ہے۔
لمافی "مشكوة شریف":
عن حارثة بن مضرب :قال دخلت على خباب وقد اكتوى سبعافقال لو لا اني سمعت رسول الله يقول لا يتمن احدكم الموت لتمنية الخ ( 140 /1
وفی "مرقاة":
قال ملا على القارى تحت قوله (لايتمن احدكم الموت) اى بضرنزل به (لتمنية) اى لا ستريح من شدة المرض اللذي من شأن الجبلة البشرية ان تنفر منه ولا تصبر عليه (81 /4)
وفی "ابو داؤد":
عن انس بن مالك قال قال رسول الله لا العون احدكم الموت لضر نزل به ولكن يقل اللهم أحينى ما كانت الحيواة خيراً لي وتوقنى اذا كانت الوفاة خيرا لي (87 /2)
وفی "المرقات شرح مشکوة":
وقال التور پشتی: النهي عن تمنى الموت وان كان مطلقا لكن المراد به المقيد لما في حديث أنس لا يتمنين أحدكم الموت من ضر أصابه وقوله وتوفنى اذا كانت الوفاة خيراً لى فعلى هذا يكره تمني الموت من ضراصابه في نفسه أو ماله لانه في معنى التبرم من قضاء الله تعالى ولا يكره التمني لخوف فساد في دينه (4/25)