جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
دس بیسں روپیہ دے کر پولیس سے چھٹکارا پانا
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
کہ ہمارے یہاں موٹرسیکل چلاتے وقت ہیلمیٹ لازم ہے، بغیر ہیلمیٹ پکڑے جانے پر قانونی طور پر پچاس روپے جرمانہ مقرر ہے لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ تھوڑی دیر کہہ سننے کے بعد دس بیسں روپئے لینے پر پولیس والا راضی ہو جاتا ہے تو یہ دس بیس روپیہ دیکر جان چھڑانا صحیح ہے یا نہیں کیا یہ رشوت ہے؟۔
واضح رہے مذکورہ قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں جان چھڑانے کے لئے جو کچھ پولیس والوں کو دیا جاتا ہے ، اس کی وجہ سے دینے والا گنہگار نہیں ہو گا صرف لینے والا گنہگار ہوگا ؛ اس لئے کہ دفع ظلم کےلئے رشوت دینے کی گنجائش تو ہے؛لیکن لینے والوں کے لئے پھر بھی حرام ہے۔
لمافی "شاميہ":
دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن نفسه،وماله،ولاستخراج حق له، ليس برشوة يعني في حق الدافع. (كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، 423 /6)