جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
مسجد میں نماز کے مقرر وقت سے پہلے چند لوگوں کا جماعت سے نماز ادا کرنا
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
مسجد میں نماز کا وقت جو مقرر ہے اس سے پہلے اگر کوئی صاحب جماعت سے نماز پڑھ لیں تو مقرر وقت کی جماعت ہوگی یا نہیں؟۔
صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ مسجد محلہ کی مسجد ہو ، اس میں امام ، مؤذن متعین اور نمازی معلوم ہوں تو اس کی حدود میں امامِ مسجد کی جماعت سے پہلے چند لوگوں کا الگ جماعت کرنا شرعاً درست نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کرنے سے منع فرمایا ہے، ان لوگوں کی نماز کے بعد اہل محلہ کا مسجد کے امام کی اقتداء میں نماز کے مقرر اوقات میں جماعت سے نماز ادا کرنا جائز ہوگا۔
البتہ اگر مذکورہ مسجد محلہ کی نہ ہو بلکہ راستہ کی مسجد ہو ، جہاں راہ گزر آتے جاتے نمازیں پڑھتے ہیں تو ایسی صورت میں اس مسجد میں ایک سے زائد جماعت کروانایا مسجد کے مقررہ وقت سے پہلے نماز ادا کرنا مکروہ نہیں ہوگا۔
لمافی "فتاوی شامیھ":
ويكره تكرار الجماعة بأذان وإقامة في مسجد محلة لا في مسجد طريق أو مسجد لا إمام له ولا مؤذن.
(قوله: ويكره) أي تحريماً؛ لقول الكافي: لايجوز، والمجمع: لايباح، وشرح الجامع الصغير: إنه بدعة، كما في رسالة السندي، (قوله: بأذان وإقامة إلخ) عبارته في الخزائن: أجمع مما هنا ونصها: يكره تكرار الجماعة في مسجد محلة بأذان وإقامة، إلا إذا صلى بهما فيه أولا غير أهله، لو أهله لكن بمخافتة الأذان، ولو كرر أهله بدونهما أو كان مسجد طريق جاز إجماعا؛ كما في مسجد ليس له إمام ولا مؤذن ويصلي الناس فيه فوجا فوجا، فإن الأفضل أن يصلي كل فريق بأذان وإقامة على حدة كما في أمالي قاضي خان اهـ ونحوه في الدرر. والمراد بمسجد المحلة ما له إمام وجماعة معلومون، كما في الدرر وغيرها. قال في المنبع: والتقييد بالمسجد المختص بالمحلة احتراز من الشارع، وبالأذان الثاني احتراز عما إذا صلى في مسجد المحلة جماعة بغير أذان حيث يباح إجماعاً. اهـ(كتاب الصلاة، باب الإمامة، 1/552، ط:سعيد)
وفی "بدائع الصنائع":
فإن كان له أهل معلوم: فإن صلى فيه غير أهله بأذان وإقامة لا يكره لأهله أن يعيدوا الأذان والإقامة، وإن صلى فيه أهله بأذان وإقامة، أو بعض أهله يكره لغير أهله وللباقين من أهله أن يعيدوا الأذان والإقامة(کتاب الصلوة،1/153، ط:سعید)