جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ ادھورا درود پڑھنا
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
اگر کوئی شخص خواہ وہ عالم ہو یا غیر عالم، اپنے وعظ و تقریر میں یا کسی دینی کتاب کو پڑھ کرسنانے میں اس کی زبان پر جب بھی حضور سرکار دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا نام نامی اسم گرامی آئے اور پھر وہ درود شریف کے الفاظ کو عجلت میں یا غفلت میں یا عادت سے مجبور ہوکر
یعنی «صلی اللہ علیہ وسلم یا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بجائے: ”سل سلم، صل سلم، صا
سلم، صسلم سلم صلعم صل عليه وسلم، ساسم، سسم“وغیرہ جیسےالفاظ ادا کرے، تو ایسے شخص کے بارے میں شریعت مطہرہ کا کیا حکم صادر ہوتا ہے؟۔
سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی جب سنا جائےیا زبان پر آئے تو ایک مجلس میں کم از کم ایک مرتبہ درودشریف کا پڑھناواجب ہے۔ اور بار بارپڑھنا مستحب ہے۔
ایسی صورت میں مکمل درود شریف یعنی صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنا چاہئے ، اسے بگاڑ کر پڑھنا یامخفف کر کے پڑھنا ادب کے خلاف ہے۔ اور اس پر کسی ثواب کی امید نہیں ہے؛ بلکہ یہ بڑی محرومی کی بات ہے۔
لمافی "روح المعاني":
تجب في كل مجلس مرة وإن تكرر ذكره مرارا. (سورةالأحزاب، تفسير الآية: 57, 12/117 مكتبه زكريا )
وفی "شرح النووي":
وبيان الحكمة في نهيهم ..... وهي الملل من العبادة والتعرض
للتقصير في بعض وظائف الدين من إتمام الصلاة بخشوعها وأذكارهاو آدابها وملازمة الأذكار وسائر الوظائف المشروعة في نهاره وليله والله أعلم. (كتاب الصوم، باب النهي عن الوصال 1/351)
وفی "أحكام القرآن":
فحاصل هذا كله أن الأولى والأخرى في الصلوة، وسائرالأذكار، والدعوات أن يتبع فيها الألفاظ الواردة الماثورة عن رسولﷺ (سورة الأحزاب، تفسير الآية56)