جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
جمعہ کی نماز کی دوسری اذان منبر (یعنی امام) کے سامنے دینے کی وجہ
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
کہ جمعہ کی نماز میں دوسری اذان خطبہ کے وقت منبر ( امام ) کے سامنے سےکیوں دی جاتی ہے، دیگر کسی اور جگہ سے اذان کیوں نہیں دی جاتی؟۔
جمعہ کے دن خطبہ سے پہلے جو اذان منبر (یعنی امام) کے سامنے کھڑے ہوکر دی جاتی ہے وہ منبر کے سامنے کھڑے ہوکر اس لیے دی جاتی ہے؛ کیوں کہ یہی سنت ہے، ابو داؤد شریف کی روایت میں ہے کہ جمعہ کے دن جب رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف فرما ہوجاتے تھے تو آپ کے سامنے اذان دی جاتی تھی، اور اسی طرح کا عمل حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بھی تھا۔
لمافی "سنن أبي داود":
حدثنا النفيلي، حدثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن إسحاق، عن الزهري، عن السائب بن يزيد، قال: كان يؤذن بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا جلس على المنبر يوم الجمعة على باب المسجد، وأبي بكر، وعمر".(1/285)
وفی "الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)":
(ويؤذن) ثانياً (بين يديه) أي الخطيب(2/161)