جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
امرد کی امامت
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
کہ حافظ بالغ لڑکا جس کے داڑھی نہ نکلی ہو اور وہ علم دین حاصل کر رہا ہو مسائل نماز سے واقف ہو اگر وہ امامت کرے تو کیا اس کی امامت میں کراہت ہے اور اگر مستقل طور پر امام ہو تو کیا حکم ہے اورعارضی طور پر ہو تو کیا حکم ہے؟۔
ایسے بے ریش حافظ لڑکے کے پیچھے باریش لوگوں کی نماز مکروہ تنزیہی ہے،مستقل طور پر بے ریش کو امام نہ رکھنا چاہئے ، عارضی طور پر اگر نمازیوں میں باریش صحیح خواں موجود ہوں تو مکروہ تنزیہی ہوگی اور اگر صحیح خواں نہ ہوں تو بلا کراہت اس کے پیچھےنماز درست ہوجائیگی۔
لمافی "شاميھ":
وكذا تكره خلف أمر د الظاهر أنها تنزيهية الخ. (كتاب الصلوۃ، بالإمامة ، مطلب في إمامة الأمرد 562/1)
وفی "شامیھ":
وهل يقال هنا أيضاً إذا كان أعلم القوم تنتفى الكراهة ؟ فإن
كانت علة الكراهة خشية الشهوة ، وهو الأظهر الخ . ( كتاب الصلوة، باب الإمامة، مطلب في إمامة الأمرد 562/1)
وفی "حاشية الطحطاوی علی مراقی الفلاح":
وتكره الصلوة خلف أمرد .( باب
الإمامة ، فصل في بيان الأحق بالإمامة دار الكتاب ديوبند 303)