جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
بیوی کا شوہر کی اجازت کے بغیر بیٹی کا نکاح کروانا
کیافرماتےہیں مفتیان کـرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
زینب علی کی بیوی ہے
ان کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے تقریباً گذشتہ 20 سال سے ان کے درمیان تعلقات بگڑچکے ہیں مگر طلاق واقع نہیں ہوئی ہےاور اولاد بیوی کے ساتھ چلے جاچکے ہیں مذکورہ دورانیے میں بیوی نے اپنی بیٹی کی نکاح اپنے شوہر کی رضامندی اور اطلاع کے بغیر محبوب کے ساتھ کروادی باپ کو جب پتہ چلا کہ میری بیوی نے میری رضامندی اور اطلاع کے بغیر میری بیٹی کی نکاح محبوب کے ساتھ کرادی ہے تو انہوں نے محبوب سے نکاح ٹوٹنے کا کہا،اب اصل پوچھنا یہ ہے کہ کیا بیٹی کی نکاح باپ کی رضامندی کے بغیر درست ہوسکتی ہے یا نہیں دوسری بات یہ ہے کہ والدین مذکورین میں سے اصل ذمہ دار اور صاحب اختیار کون ہوسکتا ہے؟۔
واضح ہوکہ اولاد کے نکاح کی ولایت باپ کو حاصل ہے، لہذا صورت مسئولہ میں سائل کی بیوی کا اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اپنی بیٹی کا نکاح کرادینا انتہائی نامناسب اور جلد بازی پر مبنی عمل ہےجس پر سائل کی بیوی کو ندامت اور سائل سے معافی مانگنی چاہئے، تاہم اگر مذکور لڑکا لڑکی کا ہم پلہ ہو ، اور مہر مثل پر نکاح شرعی گواہان کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب وقبول کے ساتھ کیا گیا ہو، تو یہ نکاح درست منعقد ہوچکا ہے، چنانچہ اگر لڑکا سلجھا ہوا اور اپنے گھر کو بسانے والا ہو اور بیوی کے حقوق ادا کرنے پر قادر ہو، تو سائل کو چاہئے کہ اب نکاح کو توڑنے کے بجائے اس کو برقرار رکھے، اور طلاق لیکر اپنی بیٹی کا گھر برباد نہ کرے۔
لما فی "الفقہ الحنفی":
لا اجبار علی البکر البالغہ فی النکاح لما روت السیدھ عائشۃ عن النبی ﷺ قال، استامروا النساء فی ابضاعھنّ الخ ( کتاب النکاح2/161 ط وحیدی)
وفی "الدرالمختار":
(الاعتراض في غير الكفء) فيفسخه القاضي ويتجدد بتجدد النكاح الخ ( باب الولی 3/56ط سعید)
وفی "ردالمحتار":
تحت (قوله ولاية ندب) أي يستحب للمرأة تفويض أمرها إلى وليها كي لا تنسب إلى الوقاحة بحر وللخروج من خلاف الشافعي في البكر، وهذه في الحقيقة ولاية وكالة الخ ( باب الولی3/55 ط سعید)