جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
مسافر کے واپسی پر نماز کا حکم ؟
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
اگر کوئی شخص میوند سے شہر کی طرف سفر کرے، اور شہر اور میوند کے درمیان سفر کی مقدار مکمل نہ ہو (یعنی شرعی مسافت پوری نہ ہو)، تو پھر وہ شہر سے شاولیکوٹ کی طرف سفر کرنے کا ارادہ کرے اور شہر اور شاولیکوٹ کے درمیان سفر کی مقدار شرعی مسافت کے برابر یا زیادہ ہو، تو اب یہ شخص مسافر شمار ہوگا۔ لیکن جب یہ شاولیکوٹ سے واپس میوند کی طرف آئے گا، تو کیا یہ شخص شہر میں قصر کرے گا یا اتمام کرے گا کیونکہ اس نے سفر کا آغاز شہر سے کیا تھا؟۔
واضح رہےجب مسافتِ سفر کے بقدر ( ۷۸ کلومیٹر یا اس سے زائد ) سفر کی نیت کرکے اپنے گاؤں کے حدود سے نکلے گا ، توشرعاً مسافر شمار ہو گا ، لہٰذا گاؤں کے حدود سے نکلتے ہی نماز میں قصر کرنا لازم ہے اور اسی طرح جب سفر سے واپسی ہو ، تو اپنے گاؤں کے حدود میں داخل ہونے پر اقامت کے احکام جاری ہونگے۔
لمافی "بدائع الصنائع" :
و أما بیان ما یصیر به المقیم مسافراً فالذی یسیر المقیم به مسافراً نیة مدة السفر و الخروج من عمران المصر اھ (1/93)
وفی "الدر المختار" :
(من خرج من عمارة موضع إقامته) من جانب خروجه و إن لم يجاوز من الجانب الآخر . و في الخانية : إن كان بين الفناء و المصر أقل من غلوة و ليس بينهما مزرعة يشترط مجاوزته و إلا فلا اھ و فی حاشية ابن عابدين : و أما الفناء و هو المكان المعد لمصالح البلد كركض الدواب و دفن الموتى و إلقاء التراب ، فإن اتصل بالمصر اعتبر مجاوزته و إن انفصل بغلوة أو مزرعة فلا (2/121 )