جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
مسبوق نے صرف ایک رکعت پائی تو باقی نماز کس طرح پڑھے گا
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
کہ ایک شخص مسبوق ہے، اس کو صرف ایک رکعت ملی ہے، اور اس کو باقی تین رکعت مسبوق بن کر پوری کرنی ہے، تو ان تین رکعتوں میں کتنی رکعت میں قرآت کرے گا،اور کون کون سی رکعت میں قرآت کرے گا ؟۔
جس شخص کو امام کے ساتھ صرف ایک رکعت ملی ہو
وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد پہلی اور دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھے گا اور ضم سورۃ کرے گا ، اور تیسری رکعت میں جو کہ آخری رکعت ہے، صرف سورہ فاتحہ پڑھے گا، اور پہلی رکعت پڑھ کر قعدہ بھی کرنا ہوگا؛ اس لئے کہ پہلی رکعت عملاً دوسری رکعت ہے؛ البتہ قرآت کے حق میں پہلی رکعت ہے ۔
لمافی "شامیہ":
فمدرك ركعة من غير فجر يأتى بركعتين بفاتحة وسورة و تشهد
بينهما و برابعة الرباعي بفاتحة فقط(كتاب الصلوة، باب الامامة، مطلب فيما لو أتى بالركوع والسجود،أوبهما،2/347)
وفی "بدائع الصنائع":
لو أدرك مع الإمام ركعة فى ذوات الأربع، فقام إلى القضاء قضى ركعة يقرأ فيها بفاتحة الكتاب وسورة ويتشهد، ثم يقوم فيقضي ركعةأخرى ويقرأ فيها بفاتحة الكتاب وسورة ولو ترك القراءة في إحداهماتفسد صلاته لما قلنا وفي الثالثة هو بالخيار والقراءة أفضل على ما عرف(كتاب الصلواة، حكم المسبوق1/249)