جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
جنازہ کی نماز میں طاق صفیں بنانا
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
کیا نمازجنازہ میں طاق صفیں بنانا سنت ھے یا مستحب ھے؟۔
جنازہ کی نماز میں جتنے زیادہ افراد ہوں اتنا ہی بہتر ہے، کیوں کہ یہ میت کے لیےدعا ہے اور چند مسلمانوں کا جمع ہوکر اللہ تعالیٰ کے دربار میں کسی چیز کے لیے دعا کرنا رحمت کے نزول اور قبولیتِ دعا کے لیے عجیب خاصیت رکھتا ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جس میت مسلمان پر ایک بڑی جماعت نماز پڑھے جن کی تعداد سو تک پہنچ جائے اور وہ سب اللہ تعالیٰ کے دربار میں اس میت کے لیے سفارش کریں یعنی مغفرت اور رحمت کی دعا کریں تو ان کی دعا اور سفارش ضرور قبول ہوگی;اور بہتر ہے کہ امام کے پیچھے کم از کم تین صفیں بنا ئی جائیں، اگر نمازِ جنازہ میں حاضرین کم ہوں تب بھی کم از کم تین صفیں بنانا مستحب ہے، یہاں تک کہ اگر صرف سات افراد ہوں تو ایک آدمی کو ان میں سے امام بنادیا جائے اور پہلی صف میں تین آدمی کھڑے ہوں اور دوسری صف میں دو آدمی اور تیسری صف میں ایک آدمی کھڑا ہو، اس کے مستحب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ صحیح حدیث میں نبی کریم ﷺ سے منقول ہے کہ جس میت پر تین صفیں نماز پڑھ لیں وہ بخشش دیا جاتا ہے، ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا : کسی بھی مسلمان پر تین صفیں مسلمانوں کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھتیں؛ مگر اللہ اس کے لیے (جنت ) واجب کردیتا ہے ۔ ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں: ’’ مگر اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمادیتے ہیں"
جنازی میں طاق صفیں بنانا مستحب ہے -
لمافی "سنن أبي داود":
"عَنْ مَالِكِ بْنِ هُبَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيُصَلِّي عَلَيْهِ ثَلَاثَةُ صُفُوفٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلَّا أَوْجَبَ» ، قَالَ: فَكَانَ مَالِكٌ «إِذَا اسْتَقَلَّ أَهْلَ الْجَنَازَةِ جَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ صُفُوفٍ لِلْحَدِيثِ»".(3/ 202)
وفی "سنن الترمذي":
"عن مرثد بن عبد الله اليزني، قال: كان مالك بن هبيرة، إذا صلى على جنازة، فتقال الناس عليها، جزأهم ثلاثة أجزاء، ثم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من صلى عليه ثلاثة صفوف فقد أوجب» وفي الباب عن عائشة، وأم حبيبة، وأبي هريرة، وميمونة زوج النبي صلى الله عليه وسلم.: «حديث مالك بن هبيرة حديث حسن» هكذا رواه غير واحد، عن محمد بن إسحاق، وروى إبراهيم بن سعد، عن محمد بن إسحاق هذا الحديث، وأدخل بين مرثد، ومالك بن هبيرة رجلاً، ورواية هؤلاء أصح عندنا".(338/3)
وفی "السنن الكبرى للبيهقي":
" عن مرثد بن عبد الله، عن مالك بن هبيرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ما صلى ثلاثة صفوف من المسلمين على رجل مسلم يستغفرون له إلا أوجب " فكان مالك إذا صلى على جنازة يعني فتقال أهلها صفهم صفوفًا ثلاثة ثم يصلي عليها. لفظ حديث جرير بن حازم وفي رواية يزيد بن هارون " إلا غفر له ".(4/ 48)
وفی "الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)":
"ولهذا قال في المحيط: ويستحب أن يصف ثلاثة صفوف، حتى لو كانوا سبعة يتقدم أحدهم للإمامة، ويقف وراءه ثلاثة ثم اثنان ثم واحد. اهـ. فلو كان الصف الأول أفضل في الجنازة أيضا لكان الأفضل جعلهم صفا واحدًا ولكره قيام الواحد وحده كما كره في غيرها، هذا ما ظهر لي".(2/ 214)