جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
قسم کھائی کہ "پیسے نہیں لوں گا" پھر لے لیے
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
اگر کوئی شخص دوسرے آدمی کو پیسے دے رہا ہے اور وہ قسم کھا لے کہ میں نہیں لوں گا۔ لیکن دینے والا بھی قسم کھا لے کہ ضرور لے لو اور پیسے پھینک دے۔ اور دوسرا شخص جس نے نہ لینے کی قسم اٹھائی تھی وہ لے لے تو کیا یہ آدمی حانث ہوگا یا نہیں؟۔
صورتِ مسئولہ میں پیسے نہ لینے کی قسم کھانے کے بعد پیسے لینے والا حانث ہوجائے گا چاہے دوسرے شخص کے پیسے پھینک دینے کے بعد ہی اس نے کیوں نہ لیے ہوں۔
لمافی "القران مجید":
لا يُؤاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمانِكُمْ وَلكِنْ يُؤاخِذُكُمْ بِما عَقَّدْتُمُ الْأَيْمانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعامُ عَشَرَةِ مَساكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ ذلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمانِكُمْ إِذا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمانَكُمْ كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آياتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (المائدة: 89)
وفی "لسان العرب":
’’الأخذ: خلاف العطاء، وهو أيضاً التناول(3 / 472)