جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
عورت کا مرد ڈاکٹر سے علاج کروانا
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
بچہ پیدا ہوتے وقت آپریشن تھیٹر میں مرد ہوں تو عورت کیا کرے ، بیہوش کرنے والے ڈاکٹر مرد ہوں تو کیا یہ جائز ہے ،جبکہ عورت شرعی پردہ کرتی ہو؟۔
صورتِ مسئولہ میں اگر آپریشن کے لیے یا بے ہوشی دینے کے لیے کوئی خاتون ڈاکٹر موجود نہ ہو یا موجود تو ہو، لیکن وہ ماہر نہ ہو اور مرد ڈاکٹر سے علاج معالجہ یا آپریشن کروانا ناگزیرہو تو چونکہ ضرورت کے بقدر مرد ڈاکٹر کے سامنے بھی جسم کا مستور حصہ کھولنے کی گنجائش ہے،اس لیے شدید مجبوری اور ضرورت کے تحت عورت کے لیے مرد ڈاکٹر سے آپریشن کروانا یا بے ہوشی کا عمل کروانا جائز ہے، اس سے عورت کو بے پردگی کا گناہ نہیں ہوگا، لیکن جب تک خاتون ڈاکٹر میسر ہو عورت کے لیے مرد ڈاکٹر سے آپریشن کروانا یا بے ہوشی لینا جائز نہیں ہے،مرد ڈاکٹر پر بھی لازم ہے کہ بقدرِ ضرورت ممنوعہ حصے کو دیکھے۔
لمافی " شامیھ":
وقال في الجوهرة: إذا كان المرض في سائر بدنها غير الفرج يجوز النظر إليه عند الدواء، لأنه موضع ضرورة، وإن كان في موضع الفرج، فينبغي أن يعلم امرأة تداويها فإن لم توجد وخافوا عليها أن تهلك أو يصيبها وجع لا تحتمله يستروا منها كل شيء إلا موضع العلة ثم يداويها الرجل ويغض بصره ما استطاع إلا عن موضع الجرح اهـ فتأمل والظاهر أن " ينبغي " هنا للوجوب(کتاب الحظر والاباحت، فصل فی النظر واللمس6/371، ط: سعید)
وفی "فتاوی عالمگیری":
ويجوز النظر إلى الفرج للخاتن وللقابلة وللطبيب عند المعالجة ويغض بصره ما استطاع، كذا في السراجية. ... امرأة أصابتها قرحة في موضع لايحل للرجل أن ينظر إليه لايحل أن ينظر إليها لكن تعلم امرأة تداويها، فإن لم يجدوا امرأة تداويها، ولا امرأة تتعلم ذلك إذا علمت وخيف عليها البلاء أو الوجع أو الهلاك، فإنه يستر منها كل شيء إلا موضع تلك القرحة، ثم يداويها الرجل ويغض بصره ما استطاع إلا عن ذلك الموضع، ولا فرق في هذا بين ذوات المحارم وغيرهن؛ لأن النظر إلى العورة لايحل بسبب المحرمية،
(کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع فی اللبس ما یکرہ من ذالک ومالا یکرہ، 5/330 ط: دارالفکر بیروت)