جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
شریک پیکیج میں شرکاء کی اجازت کےبغیر،کسی غیرشریک کو ہاٹسپاٹ کے ذریعہ نیٹ میں شریک کرنا
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
کہ زونگ کمپنی کا ایک مشترکہ پیکیج ہے "My 5 tamily 30days" کے نام سے جو کہ پانچ بندے پیسے جمع کر کے ایک ساتھ لگاتے ہیں اور 200 جی بی انٹر نیٹ ان کو دیا جاتا ہے30 دن کیلئے اب سوال یہ ہے کہ ان پانچوں میں سے ایک بندہ اپنے دوسرےدوست کے ساتھ (جو کہ پیکیج میں شامل نہ ہو) بذریعہ ہاٹ سپاٹ انٹر نیٹ شیئر کر سکتا ہے یا نہیں؟۔
واضح رہے جب متعدد افراد پیسے جمع کر کے مشترکہ طور پر کوئی چیز خرید لیں اور مشترکہ طور پر استعمال کرتے ہوں تو اس کو ”نھد“ کھاجاتا ہے اور ہر شریک کے لیئے اس کو اباحت کےطور پر استعمال کرنا جاٸز ہے، نیز: جس کو کوئی چیز اباحت کے طور پر مل جائے اس کو صرف استعمال کرسکتا ہے اس میں دیگر تصرفات (جیسے: بیچنا،ھبہ) کرنا جائز نہیں۔
؛لہذا صورت مسئولہ کے مطابق پیکیج میں شریک پانچ بندوں میں سے کسی ایک کےلیئے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی اجنبی شخص کو دوسرے ساتھیوں کی اجازت کے بغیر”ہاٹسپاٹ“ کے ذریعے نیٹ فراہم کرے؛ لہذایہ ناجائز ہے۔
لمافی "عمدة القاري شرح البخاري":
و (النهد) بفتح النون وكسرها وسكون الهاء وبدال مهملة، قال الأزهري في (التبذيب) : النهد إخراج القوم نفقاتهم
على قدر عدد الرفقة، يقال: عاهدوا، وقد ناهد بعضهم بعضا،وفي(المحكم)النهد العون، وطرح النھد مع القوم أعاتهم
وخارجهم، وقد تناهدوا أي: تخارجوا، يكون ذلك في الطعام والشراب، وقيل: النهد إخراج الرفقاء النفقة في السفر وخلطها،
ويسمى بالمخارجة، وذلك جائز في جنس واحد وفي الأجناس، وإن تفاوتوا في الأكل، وليس هذا من الربا في شيء، وإنما
هو من باب الإباحة (كتاب الشركة، باب الشركة في الطعام والنهد والعروض، 60/13 )
وفی "دور الحكام شرح مجلة الأحكام":
إذا أباح أحد لآخر شيئا من مطعوماته فأخذه فليس له التصرف فيه بوجه من لوازم التملك كالبيع والهبة ولكن له الأكل والتناول من ذلك الشيء ۔۔۔۔ وفي هذه الصورة يكون تصرفه في ذلك تصرفا في ملك الغير بلا إذن وهذا ليس جاٸز (مادة: 875، 2/479)