جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
حالتِ حمل میں بچے کو دودھ پلانے کا حکم
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
ایک بچہ 11 ماہ کا ہے اور اس کی والدہ دوبارہ ماں بننے والی ہے تو کیا وہ اپنے 11 ماہ کے بچے کو دودھ پلا سکتی ہے؟-
صورتِ مسئولہ میں شرعی اعتبار سے دوبارہ ماں بننے والی عورت کے لیے اپنے پہلے 11 ماہ کےبچہ کو دودھ پلانے کی کوئی ممانعت نہیں ہے، البتہ اگر ماہر دین دار طبیب ڈاکٹر حاملہ ہونے کی وجہ سے دودھ کے خراب ہونے اور دودھ پینے والے بچے کی صحت پر اثر پڑنےکے اندیشے کی وجہ سے اس حال میں دودھ پلانے سے منع کرے، تو اس کی رائے پر عمل کرنا درست ہوگا اور اس صورت میں دودھ نہ پلانے میں بھی کوئی حرج نہیں ہوگا، حاصل یہ ہے کہ حالتِ حمل میں بچے کو دودھ پلانا ناجائز نہیں، البتہ طبی اعتبار سے کسی نقصان کا اندیشہ ہوتو دودھ پلانے سے احتراز کرنا درست ہوگا۔
لمافی "مشکوۃ المصابیح" :
عن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ : ان رجلا جاء الی رسول اللھ صلی اللھ علیھ وسلم فقال: انی اعزل عن إمرأتي ، فقال له رسول الله صلي الله عليه وسلم: لم تفعل ذلك؟ فقال الرجل : اشفق علي ولدها، فقال رسول الله صلي الله عليه وسلم : لو كان ضارا ضرفارس والروم(کتاب النکاح ، باب المباشرۃ ، الفصل الأول208/2 ط:مکتبة البشرٰی کراتشی)
وفی "مرقاة فی شرح المشكاة":
(فقال رجل : أشفق) أي أخاف (علي ولدها) أي الذي في البطن لئلايصير توأمين فيضعف كل منهما، أو علي ولدها الذي ترضعه لماسيأتي أن الجماع يضره۔ وقيل: أي أخاف إن لم أعزل عنهالحملت وحينئذ يضر الولد الإرضاع في حال الحمل (فقال رسول الله صلي الله عليه وسلم: لو كان ذلك ) أي الجماع حال الارضاع أو الحبل( ضارا ضر فارس والروم ) أي أولادهما، يعني ترضع نساء الفرس والروم أولادهن في حال الحمل، فلو كان الإرضاع في حال الحمل مضرا لأ ضر اولادهن (کتاب النکاح، 6/ 317 ط: دارالكتب العملية بيروت)
وفی "مشکوۃ المصابیح":
وعن جذامة بنت وهب قالت حضرتُ رسول اللھ ﷺ في أناس وهو یقول : ’’ لقدهممتُ أن أنهی عن الغیلة، فنظرت في الروم وفارس ، فإذاهم یغیلون أولادهم ، فلا یضرّ أولادهم ذلك شیئًا( کتاب النکاح ، باب المباشرۃ ، الفصل الأول 208 ط:مکتبة البشرٰی کراتشی)