جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
لنڈے(کباڑی) کے کپڑوں اور بوٹوں میں سے پیسے لینا
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
کہ میں استعمال شدہ کپڑے اور بوٹ نیلام لنڈے (کباڑی)کا کام کرتا ہوں، پورے بنڈل باہر سے آتے ہیں، اس میں کبھی کبھار ڈالر یا یورو نکلتے ہیں جو کہ لاکھوں کے حساب سے ہوتے ہیں، تو کیا میرے لئے یہ پیسے حلال ہے؛ کیونکہ میں نے تو مال خریدا ہے پیسے تو نہیں خریدے ہے اور اگر حلال نہیں ہے تو میں کیا کروں؟ اور اگر میرے مزدور کو یہ پیسے ملے تو کیا اس کے لئے حلال ہے یا وہ مجھے دے گا یہ پیسے؟۔
صورتِ مسئولہ میں لنڈے (کباڑی)کا کپڑا اور بوٹ خریدا جاتا ہے، نہ کہ اس میں موجود نقدی و قیمتی سامان؛ لہذا اس میں سے نکلنے والا سامان سارا لقطہ کے حکم میں ہے،اور اس کا واپس کرنا لاز م ہے،اگر اس کا واپس کرنا ممکن نہ ہو تو کسی غریب کو صدقہ کرنا لازم ہے۔ اگر آپ کا مزدور غریب مستحقِ زکوۃ ہو تو اس کو بھی دے سکتے ہے اور اگر یہ مزدور کو ملے اور وہ غریب ہو تو وہ بھی لے سکتا ہے۔
لمافی "الهندية":
وقال يعرف الملتقط اللقطة في الأسواق والشوارع مدة يغلب على ظنه أن صاحبها لا يطلبها بعد ذلك هو الصحيح، كذا في مجمع البحرين ولقطة الحل والحرم سواء، كذا في خزانة المفتين ، ثم بعد تعريف المدة المذكورة الملتقط مخير بين أن يحفظها حسبة وبين أن يتصدق بها فإن جاء صاحبها فأمضى الصدقة يكون له ثوابها وإن لم يمضها ضمن الملتقط أو المسكين إن شاء لو هلكت في يده فإن ضمن الملتقط لايرجع على الفقير و إن ضمن الفقير لايرجع على الملتقط و إن كانت اللقطة في يد الملتقط أو المسكين قائمة أخذها منه (17/358)
وفی "مجمع الضمانات":
وعلى الملتقط أن يعرفها إلى أن يغلب على رأيه أن صاحبها لايطلبها بعد ذلك ... ثم يتصدق بها، وله أن ينتفع بها لو فقيرا فإن جاء صاحبها بعدما تصدق بها فهو بالخيار إن شاء أمضى الصدقة وله ثوابها، وإن شاء ضمن الملتقط، وإن شاء ضمن المسكين إذا هلك في يده وإذا كان قائمًا أخذه(1/209)
وفی تبيين الحقائق:
و قيل: إن شيئًا من هذه المقادير ليس بلازم ويفوض إلى رأي الملتقط يعرفها إلى أن يغلب على ظنه أن صاحبها لايطلبها بعد ذلك ...(3/ 304)