جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
میراث کامسئلہ
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
کہ میت کے چار بیٹے ہیں،پانچ بیٹیاں ہیں اور ایک بیوی ہے نیز:ترکہ میں (6704800)روپے ہے اب مذکورہ رقم تمام ورثاء کے درمیان کس طرح تقسیم ہوگی؟۔
بشرط صحت سوال کہ اس میں کسی قسم کی غلط بیانی نہ کی گئی ہو اور موانع ارث
بھی نہ ہو تو سب سے پہلے مرحوم کی تجہیز و تکفین،قرض کی آدائیگی اور ایک تہائی تک وصیت کو نافذکیا جائے اگر وصیت کی ہو،(حقوقِ ثلاثہ مقدم على التقسیم کے بعد)پھر مرحوم کا تمام جائیداد
(خواہ منقولی ہو یا غیر منقولی ) تمام ورثاء پر تقسیم کیا جائے گا۔
ترکہ تقسیم کرنے کا طریقہ کار یہ ہے کہ کل جائیداد کو ایک سو چار برابر(104)حصوں میں تقسیم کیا جائےجن میں سے مرحوم کی بیوی کو (13) حصے،چار بیٹوں میں سے ہر ایک کو (14)حصے اور پانچ بیٹیوں میں سے ہر ایک کو (7)حصے، دیئے جائیں گے
اور مذکورہ ترکہ (6704800) میں سے مرحوم کی بیوی کو (838100)،چار بیٹوں میں سے ہرایک کو(902569.230)اورپانچ بیٹیوں میں سے ہر ایک کو (451284.615) روپے ملیں گی۔
لما فی "القرآن الكريم":
یوصیكم الله فی اولادكم للذكر مثل حظ الأنثين فإن كن (الخ)
سورة النساء: الآیه: (11)
وفی "الھندیة":
التركة تتعلق بها حقوق أربعة جهاز الميت و دفنه
والدین والوصية ... (الخ)
(کتاب الفرائض:447/6،ط: رشیدیہ)
وفی السراجیة:
" وهم أربعة أصناف جزء المیت وأصله وجزء أبيه وجزء جدہ.
(باب العصبات:36،ط: بشری)