جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
بغیر ٹوپی کی نمازپڑھنےکاحکم
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
بغیر ٹوپی کے نمازپڑھناکیسا ہے؟۔
واضح رہےکہ سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ،تابعین اور سلف صالحین کا طریقہ ہمیشہ سر ڈھانپ کر نماز پڑھنے کا رہا ہے اور یہی طریقہ متوارث ہے، اس طریقہ کو ترک کرنا بلاکسی عذر شرعی کے مکروہ ہے، اس لئے بغیر ٹوپی یا عمامہ کے نماز پڑھنا مکروہ ہے؛البتہ اگر کبھی غایت تواضع میں اظہار عاجزی ونیازمندی کے لئے تنہائی میں ایسا کرے تو فقہاء کی عبارات سےاس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے؛ نماز افضل ترین عبادت ہے جس کے لئے قرآن نے زینت اختیار کرنے کو پسند کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سےاحرام کی حالت کے سوا بغیر ٹوپی کے نماز ادا کرنا ثابت نہیں، اس لیےکاہلی، سستی اور لاپرواہی کی بنا پر ٹوپی کے بغیر ننگے سر نماز پڑھنا مکروہ ِ تنزیہی ہے، کبھی اگر اتفاقا ٹوپی میسر نہ ہوتوبغیر ٹوپی کے نماز پڑھنا بلاکراہت درست ہوگا۔
لمافی "ردالمحتار":
یا بنی آدم خذوا زینتکم عند کل مسجد} الاعراف: 31) "(وصلاته حاسراً) أي كاشفاً (رأسه للتكاسل)، ولا بأس به للتذلل، وأما للإهانة بها فكفر (قوله: للتكاسل) أي لأجل الكسل، بأن استثقل تغطيته ولم يرها أمراً مهماً في الصلاة فتركها لذلك، وهذا معنى قولهم تهاوناً بالصلاة وليس معناه الاستخفاف بها والاحتقار؛ لأنه كفر شرح المنية. قال في الحلية: وأصل الكسل ترك العمل لعدم الإرادة، فلو لعدم القدرة فه العجز.
(کتاب الصلوة1/ 641، ط:رشیدیه)